انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 44

۴۴ ہے- مگر میرے پاس لجنہ کی جو رپورٹ پہنچتی رہی ہے- اس میں اس کا ذکر اس رنگ میں نہیں تھا جس رنگ میں اس کا ایڈریس میں ذکر ہے، بلکہ اور رنگ میں تھا- لجنہ جب اپنے کام کی آپ ذمہ وار ہے تو وہ ایسا ریزولیوشن پاس کر سکتی تھی جس کے ماتحت یہ سکول آ جاتا- ممکن ہے لجنہ نے اس کے متعلق ریزولیوشن پا کیا ہو اور مجھے وہ ریزولیوشن نہ پہنچا ہو- مگر جو پہنچا اس میں اور جس بات کا اس وقت ذکر کیا گیا ہے بہت فرق ہے- اس قسم کی اور خامیاں بھی لجنہ کے کام میں ہو جاتی ہیں- جس کی وجہ یہ ہے کہ ممبرات لجنہ کو یہ احساس نہیں کہ پہلے قانون ہونا چاہئے اور پھر اس کے ماتحت کام کرنا چاہئے- خواہ کوئی کتنا اچھا کام ہو- لیکن اگر قانون سے پہلے شروع کیا جاتا تو اس سے انتظام کے ماتحت کام کرنے کی روح برباد ہو جاتی ہے- اس کے مقابلہ میں خواہ کتنا تھوڑا کام ہو لیکن اگر اس کے متعلق قانون پہلے وضع کیا جاتا ہے اور کام پیچھے کیا جاتا ہے تو اس طرح قربانی اور ایثار کا مادہ ترقی کرتا اور انتظام کے ماتحت کام کرنے کی روح پیدا ہوتی ہے- پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں لجنہ کی ممبرات کام کی طرف قدم بڑھاتی ہیں- وہاں کوئی ایسا کام نہ کریں نہ کوئی عہدہ دار ایسا کرے اور نہ ساری ممبرات کہ جس کام کے متعلق قانون نہ پاس ہو- اسے شروع کیا جائے- مجھے یاد ہے جب صدر انجمن کی بنیاد پڑی تو بعض ممبر ایسے کام خود بخود جاری کر لیتے جو انجمن کے اصول کے خلاف ہوتے- ہم ان کی اس بناء پر مخالفت کرتے کہ انجمن کے احصول کے خلاف کوئی کام نہ ہونا چاہئے- اس پر وہ کہتے- دیکھو یہ اچھا کام نہیں ہونے دیتے- ہم ان کو جواب دیتے- اگر کوئی اچھا کام ہے تو سو دفعہ اسے کرو مگر اس کے لئے قانون پاس کر لو- انجمن کے اصول کی خلاف ورزی کر کے کوئی کام کیوں شروع کرتے ہو- پس ممبرات لجنہ کو یاد رکھنا چاہئے- قانون پاس کرنے سے قبل کوئی کام نہ شروع کریں- خواہ وہ کام کتنا بڑا اور کتنا مفید ہی کیوں نہ ہو اور میں تو کہوں گا اگر جہاد بھی لجنہ کے فیصلہ پر منحصر ہو تو اس کے فیصلہ سے قبل وہ بھی شروع نہیں ہونا چاہئے- دوسری بات جس کی طرف میں لجنہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب کوئی جماعت نظام کے ماتحت کام کرنا شروع کرتی ہے تو چونکہ وہ پہلے نظام کے ماتحت کام کرنے کی عادی نہیں ہوتی، اس لئے کام کرنے والوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے- ایسے اختلافات سے گھبرانا نہیں چاہئے- اس قسم کے اختلاف سے نظام کی وہ خامیاں ظاہر ہوتی ہیں جو ابتدائی کاموں میں عموماً پائی جاتی ہیں- قانون کی خامیاں وکلاء کے بالمقابل کھڑے ہونے سے ہی ظاہر ہوتی ہیں اور اس