انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 43

۴۳ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلي على رسؤله الكريم احمدی خواتین کے فرائض اور ذمہ داریاں (فرموده ۵- اکتوبر ۱۹۲۹ء) ۵- اکتوبر لجنہ اماء اللہ کی طرف سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو جو ایڈریس پیش کیا گیا اس کے جواب میں حضور نے حسب ذیل تقریر فرمائی- سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: میں توپہلے ممبراتِ لجنہ کا اپنی طرف سے اور اپنے خاندان اور اپنے ہمراہیوں کی طرف سے اس دعوت کے متعلق شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہماری آمد پر دی گئی ہے- اس کے بعد اس امر پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ لجنہ آہستگی کے ساتھ گو استقلال کے ساتھ اپنے لئے کام کے نئے میدان تلاش کر رہی ہے- اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر لجنہ اسی طرح کام کرتی چلی گئی تو حقیقاً نہ کہ نام کے طور پر اسے ہم ایک مرکزی لجنہ قرار دے سکیں گے- اس کے بعد جو کچھ لجنہ اپنے کام کو وسیع کرنے کے متعلق کر رہی ہے اس کی نسبت ایک بات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انجمنوں کی زندگی دراصل قانون کی زندگی ہوتی ہے- کسی ایک فرد سے کام لے کر بہت سے افراد کے ہاتھوں میں کام دینے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ افراد متحد جدوجہد کر احترام کے عادی ہو جائیں اور ان کے اندر یہ ماہ پیدا ہو جائے کہ اگر کسی وقت ایک لیڈر سے انجمن محروم ہو جائے تو کام کے تسلسل میں فرق نہ پیدا ہو- اس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ اہم اور ضروری بات ہوتی ہے کہ ہمیشہ قانون کی پابندی کی جائے- اور قانون کی پابندی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ قانون مقررہ الفاظ میں موجود ہو- جہاں لجنہ کی ممبرات اپنے کام کو وسیع کرنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، وہاں انہیں اپنے ہی قانون سے باہر نہیں نکلنا چاہئے- اسی ایڈریس میں جو اس وقت پڑھا گیا ہے، ایک سکول کا ذکر