انوارالعلوم (جلد 11) — Page 564
۵۶۴ فضائل القرآن(نمبر ۳) سکتے ہوں گے۔اس وجہ سے مجھے خیال آیا کہ جو تفصیل بیان نہیں ہو سکی تھی اس کو بھی لے لوں۔اس طرح میرا کام اور بھی وسیع ہو گیا جسے اس سال تو میں یقینی طور پر ختم نہیں کرسکتا۔اور اگلے سال کے متعلق میں نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ میرے دل میں کیا ڈالے۔اس لئے جتنا ہو سکے گا اتنا بیان کر دوں گا۔قرآن کریم اپنی ہر بات میں افضل ہے میں نے بتایا تھا کہ قرآن کریم کو جو افضلیت حاصل ہے وہ انہی باتوں میں نہیں جو اس میں دوسری الہامی کتابوں سے زائد ہے بلکہ جو باتیں پہلی کتابو ں میں موجود ہیں ان کے لحاظ سے بھی قرآن کریم ان سے افضل ہے۔میں غور کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر پہلی کتابوں میں کپڑے بدلنے کا کوئی طریق بتایا گیا ہے تو قرآن کریم نے اس سے بہتر اور عمدہ طریق پیش کیا ہے۔اگر ان میں کھانا کھانے کے متعلق حکم دیا گیا ہے تو اس کا بھی قرآن کریم نے ان سے اچھا طریق پیش کیا ہے۔گویا کوئی معمولی سے معمولی بات بھی قرآن کریم نے ایسی نہیں بتائی جس میں اس کے برابر کوئی اور کتاب ہو۔اور خواہ کوئی موٹی سے موٹی بات لے لی جائے اس میں بھی قرآن کریم دوسری کتابوں سے افضل ثابت ہوگا۔بلکہ بغیر سوچنے اور غور کرنے کے جو پہلی بات سامنے آئے اگر اسی کو لے لیاجائے تو میں اس کے متعلق بھی بتا دوں گا کہ کس طرح معمولی سے معمولی بات کے متعلق بھی پہلی کتابوں میں تعلیم موجود ہونے کے باوجود قرآن کریم نے ان سے اعلیٰ تعلیم پیش کی ہے۔پس ان لوگوں کا شبہ دور کرنے کے لئے جنہیں یہ خیال ہو کہ شاید تفصیل کی رو سے قرآن کریم کی فضیلت ثابت نہ ہوسکتی ہو میں دو مثالیں لے لیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے کس طرح انہیں نئے اور علمی رنگ میں پیش کیا ہے۔صدقہ و خیرات کے بارہ میں اسلامی تعلیم کی جامعیت پہلی مثال میں میں صدقہ و خیرات کی تعلیم کو پیش کرتا ہوں۔یہ کوئی روحانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فطری امر ہے۔ایک دوسرے سے ہمدردی کا جذبہ حیوانوں تک میں موجود ہیں۔ایک حیوان دوسرے حیوانوں سے ہمدردی کرتا ہے۔ایک پرندہ دوسرے پرندے سے ہمدردی کرتا ہے۔اگر ایک کوّا مارو تو بیس کوے کائیں کائیں کر کے جمع ہوجاتے ہیں۔وہ ایک کوے کے مرنے پر غم بھی کریں گے اور اگر کسی نے مرا ہوا کوّا اٹھایا ہوا ہو تو اس پر حملہ بھی کریں گے تاکہ اسے چھڑالیں۔غرض ہمدردی اور ایک دوسرے