انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 563

۵۶۳ فضائل القرآن(نمبر ۳) پھر بعد اُس کے قدرت الٰہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کررہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہرًا و باطنًا حضرت ربّ العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیّت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔‘‘۴؂ پھر بعد میں آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا دیا کہ:۔’’ اورمیں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثباتِ حقیّتِ اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تومعلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل (یعنی سچے مذہب کا اپنے عقائد اور تعلیم میں کامل ہونا اور اس کی زندہ برکات اور معجزات)ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔‘‘۵؂ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کی افضلیت کے وہ دلائل جن کا براہین احمدیہ میں وعدہ کیا تھا اپنی دوسری کتابوں میں بیان فر مادیئے۔مگر ہر ایک نظر ان تک نہیں پہنچ سکتی اس لئے میں نے انہیں ایک ترتیب سے بیان کرنا ضروری سمجھا۔پچاس وجوہِ فضلیت لیکن جب میں اس قرضہ کی ادائیگی کا سامان کرنے کے لئے بیٹھا تو میں نے دیکھا کہ قرضہ اور بڑھ گیا ہے۔کیونکہ میں نے نوٹ کرنے لگا تو ۲۶ کی بجائے ۵۰ فضیلت کی وجوہات مجھے معلوم ہوئیں اور اس طرح ۲۰ کی بجائے ۴۴ میرے ذمے نکلیں۔اس پر مجھے خیال آیا کہ جب گذشتہ سال لمبا وقت صرف کرکے بمشکل چھ وجوہات پیش کی جاسکی تھیں تو اس سال ۴۴ کس طرح بیان کی جا سکیں گی۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ بعض لوگوں کی طبیعت چونکہ وہمی ہوتی ہے اس لئے وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اصولی طور پر فضیلت کے گُر بیان کرکے جو قرآن کریم کی فضیلت ثابت کی گئی ہے اور تفصیل بیان نہیں کی گئی تو اس میں ضرور کوئی بات ہوگی۔اور یہ قرآن کریم کی افضلیت کو پوری طرح ثابت نہیں کر