انوارالعلوم (جلد 11) — Page 562
۵۶۲ فضائل القرآن(نمبر ۳) فضائل القرآن کے مضمون کی اہمیت میں نے پچھلے سال کے سالانہ جلسہ پر فضائل قرآن کریم کے متعلق ایک مضمون بیان کیا تھا۔یہ مضمون جس قدر اہمیت رکھتا ہے اس کا اندازہ احباب اس سے لگا سکتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد ہی اس امر پر ہے کہ قرآن کریم دنیا کی ساری مذہبی اور الہامی کتابوں سے افضل ہے اگر ایسا نہ ہو تو پھر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی غرض ہی کچھ نہیں ہو سکتی۔آپ کی بعثت سے پہلے بھی دنیا میں مذاہب موجود تھے اگر آپ ان سے کوئی افضل چیز نہیں لائے تو پھر آپ ؐ کے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ لیکن اگر قرآن کریم کی افضلیت ثابت ہو جائے تو پھر دوسرے مذاہب کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔ان کی وہی مثال ہو جاتی ہے کہ ’’آب آمد تیمّم برخاست‘‘ اگریہ ثابت ہوجائے کہ قرآن آب کی حیثیت رکھتا ہے تو واضح ہو جائے گا کہ پہلی کتابیں متروک ہو چکی ہیں اور اب صرف قرآن ہی قابل عمل کتاب ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اگر ایک ایک چیز کو لے کر ہم فضیلت ثابت کریں تو شبہ رہ سکتا ہے کہ فلاں چیز جس کا ذکر نہیں کیا گیا اس کے لحاظ سے نہ معلوم وہ افضل ہے یا نہیں لیکن اگر اصولی طور پر ہم افضلیت ثابت کردیں تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم کلی طور پر تمام کتب الٰہیہ سے افضل ہے۔میں نے گذشتہ سال کے لیکچر میں قرآن کریم کی افضلیت کے متعلق چھبیس وجوہ بیان کی تھیں۔مگر ان چھبیس میں سے صرف چھ کی رو سے ہی میں نے قرآن کریم کی افضلیت ثابت کی تھی۔اور باقی بیس میرے ذمہ قرض رہ گئی تھیں۔بلکہ ان چھ میں سے بھی آخری دو وقت کی قلت کی وجہ سے نہایت اختصار کے ساتھ بیان ہوئی تھیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آج ان دو کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کر دوں۔حضرت مسیح موعود ؑ کے ایک ارادہ کو پورا کرنے کی کوشش یہ مضمون دراصل اس عہد کا ایفاء ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں قرآن کریم کی افضلیت کے متعلق تین سو دلائل پیش کرنے کے بارہ میں فرمایا تھا۳۔اگرچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ کی چوتھی جلد کے آخر میں ہی لکھ دیا تھا کہ :۔’’ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اُس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی