انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 496

۴۹۶ یہ کتاب میرے لئے مفید ہو گی اور میں اسے نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھوں گا- سردار محمد اسماعیل بیگ دیوان ریاست میسور-: ‘’سر مرزا آپ کی کتاب پا کر بہت ممنون ہیں- وہ اسے بہت دلچسپی سے پڑھیں گے- علیالخصوص اس وجہ سے کہ وہ آپ کی جماعت کے امام سے ذاتی واقفیت رکھتے ہیں’‘- آپ کا صادق آئی- ایم- ایس- سیکرٹری مسٹر اے- ایچ غزنوی آف بنگال-: ‘’کتاب ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل’‘ کے لئے مسٹر اے- ایچ غزنوی مولوی فرزند علی صاحب کے بہت ممنون ہیں- انہوں نے اس کتاب کو بہت دلچسپ پایا ہے’‘- مسٹر ڈبلیو- پی- بارٹن Barton(۔P۔W۔(Mr ‘’میں جناب کا امام جماعت احمدیہ کی تصنیف کردہ کتاب کے ارسال کرنے کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں- یہ ایک نہایت دلچسپ تصنیف ہے- میرے دل میں اس بات کی بڑی وقعت ہے کہ مجھے اس کے مطالعہ کا موقع ملا ہے’‘- مسٹر آر- ای ہالینڈ (انڈیا آفس( Office( (India Holland۔E۔R۔Mr ‘’جناب کے ارسال فرمانے کا بہت بہت شکریہ- میں نے اسے بہت دلچسپ پایا ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا ہے’‘- سر ہون اوملر O،MILLAR( (SIR HONE ‘’اس چھوٹی سی کتاب کے ارسال کے لئے جس میں مسئلہ ہند کے حل کے لئے امام جماعت احمدیہ کی تجاویز مندرج ہیں- میں تہہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں- سائمن کمیشن کی تجاویز پر یہی ایک مفصل تنقید ہے جو میری نظر سے گزری ہے- میں ان تفصیلات کے متعلق کچھ عرض نہ کروں گا جن کے متعلق اختلاف رائے ایک لازمی امر ہے- لیکن میں اس اخلاص، معقولیت اور وضاحت کی داد دیتا ہوں جس سے کہ ہز ہولی نس (HIS HOLINESS ) (امام جماعت احمدیہ( نے آپ کی جماعت کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور میں ہز ہولی نس کے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے اس امر کے متعلق بلند خیالی سے بہت متاثر ہوا ہوں- مجھے افسوس ہے کہ میں ابھی تک بارنس میں حاضر ہو کر آپ کی مسجد کو نہیں دیکھ سکا اور