انوارالعلوم (جلد 11) — Page 445
۴۴۵ ان شرائط کے ساتھ جو ذیل میں بیان کی جاتی ہیں بتدریج ہوگا- اس کے بعد ان حفاظتی تدابیر اور موقت قیود کو بیان کر دیا جائے جو درمیانی عرصہ کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پہلے صوبہ جاتی نظام مکمل ہو جائے تو پھر مرکز کو مکمل کیا جائے ضروری سمجھی جائیں- غرض اس وقت بوضاحت یہ امر بیان کر دیا جائے کہ ہندوستان کو اصولی طور پر درجہ نوآبادیات دے دیا گیا ہے گو حفاظتی تدابیر بھی ساتھ ہی بیان کر دی جائیں اور اسی طرح آئندہ نظام حکومت کی ترقی کی صورتیں بھی بتا دی جائیں- یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ جب نہ مرکزی حکومت کا نظام مکمل ہوا ہو اور نہ صوبہ جات کو ہی مکمل آزادی ملی ہو تو پھر اس قسم کے اعلان سے کیا فائدہ؟ کیونکہ کسی چیز کا بطور اصول کے مل جانا اس کے عملی حصول میں بہت کچھ ممد ہوتا ہے- ایک شخص اگر کسی سے وعدہ کرے کہ میں تجھے کچھ مال دوں گا- اس کی جائیداد میں اور اس یتیم کی جائیداد میں جس کی طرف سے دوسرے لوگ انتظام کر رہے ہوں بہت کچھ فرق ہوتا ہے- انتظام کے لحاظ سے تو دونوں برابر ہونگے- وہ بھی جس کے پاس کچھ نہیں اور کسی نے اسے کچھ جائیداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور صاحب جائیداد یتیم بھی لیکن حقیقت میں دونوں میں بہت فرق ہوگا- اول الذکر ایک جائیداد کا وعدہ ہو جانے سے صاحب جائیداد نہیں کہلا سکتا اور ثانی الذکر صاحب جائیداد کہلاتا ہے- اگر یہ اعلان نہ کیا جائے کہ ہندوستان کو درجہ نو آبادیات دے دیا گیا ہے تو خواہ کس قدر اختیارات بھی ہندوستان کو مل جائیں پھر بھی اس کے لئے امید و بیم کی حالت باقی رہے گی لیکن اگر یہ اعلان ہو جائے تو خواہ اختیارات محدود ہی ہوں آزادی کی جنگ ختم ہو جائے گی اور صرف اندرونی انتظام کی مہم اس کے لئے باقی رہ جائے گی- دونوں حالتوں میں ایک موٹا فرق جسے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے یہ ہے کہ اس اعلان کے بعد ہندوستان کا تعلق پارلیمنٹ سے اسی طرح ختم ہو جائے گا جس طرح کہ دوسری نوآبادیوں کا- اور جو مراحل بھی عملی آزادی کے اس کو طے کرنے ہونگے ان کا طے کرنا ان ہدایات کے ماتحت جو اس اعلان کے ساتھ ہی دے دی جائیں گی صرف اس کا اپنا کام ہوگا یا پھر بعض امور کا تصفیہ ہندوستان کی حکومت تنفیذی اور انگلستان کی وزارت کے درمیان رہ جائے گا اور آئندہ نہ پارلیمنٹ کے کسی اور قانون کی ضرورت رہے گی اور نہ کسی شاہی کمیشن