انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 441

۴۴۱ نے تو ابھی تک اپنی آخری صورت اختیار نہیں کی اور بعض نے ابھی تک اس اتحاد میں شمولیت کی رضامندی کا اظہار نہیں کیا- اگر ہم ایسی ریاستوں کو نظر انداز بھی کر دیں اور صوبہ جات کو بھی ان کی موجودہ شکل و صورت میں لے لیں- تب بھی ابھی تک وہ حالات جو فیڈریشن کے مکمل قیام کے لئے ضروری ہیں ہندوستان میں میسر نہیں ہیں کیونکہ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے صوبہ جات مستقل خود اختیاری حکومت حاصل کریں’‘- ۶۳؎ جہاں تک اصول کا تعلق ہے یہ امر بالکل درست اور صحیح ہے- اگر ہم اس لہر کو تسلیم کر لیں کہ ہندوستان میں اتحادی طرز کی حکومت ہو گی تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرکزی حکومت کا فیصلہ صوبہ جات کے اختیار میں ہونا چاہئے اور بجائے اس کے کہ ہم مرکزی حکومت کا ڈھانچہ بنائیں ہمیں اس دن کا انتظار کرنا چاہئے جب کہ صوبہ جات کی آزادی مکمل ہو جائے اور وہ مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کریں کہ مرکزی حکومت کی کیا شکل ہو، اور اس کے کیا اختیارات ہوں، اور اس کا تعلق اس کے آزاد حصص سے کیا ہو- لیکن اگر ہم اس امر کو دیکھیں کہ ہندوستان میں اتحادی حکومت ان اصول پر طے ہی نہیں ہو رہی جن کی بناء پر اتحادیحکومتیں قائم ہوا کرتی ہیں تو پھر سائمن کمیشن کا بتایا ہوا اصل کچھ ایسا وزن دار نہیں رہتا- کیونکہ اگر اس عام طریق کو لیں جو اتحادی حکومتوں کے قیام کے لئے ہے تو پہلے ہمیں ہندوستان کی حکومت کو توڑ دینا چاہئے اور الگ الگ آزاد صوبے قائم کرنے چاہئیں جن کا کسی مرکز سے تعلق نہ ہو- پھر جب ان کی آزادی مکمل ہو جائے تو پھر انہیں باہم اکٹھا کرنا چاہئے اور ان سے مشورہ کروانا چاہئے کہ وہ کن اصول پر آپس میں ملنا چاہتے ہیں اور پھر جو سکیم وہ مقرر کریں اس کے مطابق ازسر نو ایک سکیم حکومت ہند کی تیار کر کے اس کے ماتحت ایک مرکزی حکومت قائم کرنی چاہئے- پھر ساتھ ہی اس احتمال کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ شاید صوبہ جات جب ملیں تو وہ یہی فیصلہ کریں کہ ہم الگ الگ ہی رہنا چاہتے ہیں- ہمیں کسی مرکزی حکومت کی ضرورت ہی نہیں لیکن کیا کوئی عقل مند خیال کر سکتا ہے کہ یہ طریق معقول ہو گا اور اس کا کوئی اچھا نتیجہ پیدا ہو گا؟ ہم سائمن رپورٹ کے لکھنے والوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا اب انہوں نے صوبوں کو جو اختیار دیئے ہیں وہ وہی ہیں جو ہر آزاد حکومت کو حاصل ہوتے ہیں- یا انہوں نے نہایت محدود