انوارالعلوم (جلد 11) — Page 440
۴۴۰ باب ششم مرکزی حکومت صوبہ جاتی حکومتوں، عدالتوں اور ملازمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اب میں مرکزی حکومت کو لیتا ہوں- گو مرکزی حکومت خواہ اتصالی طرز کی ہو یا اتحادی طرز کی اجزاء کی حکومت سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور اس کی اہمیت صرف ملک کے قانون اساسی سے دوسرے درجہ پر ہوتی ہے- لیکن چونکہ اکثر مطالب جو صوبہ جات اور مرکز کے درمیان میں مشترک تھے بیان ہو چکے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اب میرا کام بہت ہلکا ہو گیا ہے- کیونکہ بہت سے مطالب کی نسبت اب مجھے کچھ لکھنا نہیں پڑے گا صرف اشارہ کرنا کافی ہو گا- سائمن رپورٹ نے فیڈرل اصول کو تسلیم کرنے کے بعد اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اصل طریق اتحادی حکومتوں کا یہ ہوتا ہے کہ ان کے مختلف حِصص مل کر ملک کے لئے ایک قانون اساسی تجویز کرتے ہیں کیونکہ اتحادی حکومت کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے حصوں نے مرکز کو قائم کیا ہے- پس جب تک ہندوستان کے صوبہ جات میں آزاد حکومت قائم نہ ہو جائے اس وقت تک مرکزی حکومت کا صحیح نظام قائم نہیں ہو سکتا- وہ لکھتے ہیں- ‘’یہ خیال کہ ہندوستان ترقی کر کے فیڈریشن کے اصول پر حکومت خود اختیاری حاصل کرے گا- اس سوال پر کئی لحاظ سے اہم اثر رکھتا ہے کہ مرکزی حکومت میں اس وقت کس حد تک تبدیلی کی جا سکتی ہے ہم اس بات کی طرف اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ صوبہ جات کی موجودہ حدود پر مزید غور ہونا چاہئے اور ہم اس امید کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ آئندہ کسی وقت ایسی ریاستیں بھی ہندوستانی فیڈریشن کا حصہ بن جائیں گی- اندریں حالات ہمارے سامنے یہ صورت درپیش ہے کہ ہم ایسے حصوں کو فیڈریشن کے اصول پر متحد کرنا چاہتے ہیں جن میں سے بعض