انوارالعلوم (جلد 11) — Page 428
۴۲۸ کورٹ کا یہ بھی کام ہو کہ وہ خاص طور پر بڑے مقدمات میں پریوی کونسل کی جگہ پر ہائی کورٹوں کی اپیلیں سنے- اسی طرح اس کا کام فیڈرل قانونوں کے متعلق آخری اپیل سننا ہو- ایسے مقدمات کی ابتداء کی کارروائی صوبہ جاتی عدالتوں کے ہی سپرد رہے- امریکہ کی طرح ضروری نہیں کہ چھوٹی فیڈرل عدالتیں بھی قائم کی جائیں- یہ کام صوبہ جاتی عدالتوں کے سپرد رہے صرف اپیل سپریم کورٹ کے پاس آئے- چونکہ سپریم کورٹ کا کام قانون اساسی کی تشریح کرنا بھی ہوگا، اس لئے اس کے ججوں کے انتخاب کا سوال خاص اہمیت رکھتا ہے- شاید میرے بہت سے دوست میری اس رائے کو ناپسند کریں گے لیکن میرے نزدیک کم سے کم ابتدائی زمانہ میں اس امر کی ضرورت ہے کہ اس عدالت کے ججوں کا ایک معتدبہ حصہ انگلستان سے مقرر ہو کر آئے- اس کورٹ کے ججوں کے متعلق اگر یہ شرط ہو کہ پہلے پندرہ سال تک لازماً دو تہائی جج پریوی کونسل (PRIVY COUNCIL) کی سفارش پر تاج کی طرف سے مقرر ہوں اور ایک تہائی ججوں کے تقرر کے لئے یہ قاعدہ ہو کہ پہلی دفعہ تو گورنر جنرل مختلف ہائی کورٹوں کے چیف ججوں سے مشورہ کر کے ایسے ججوں میں سے جو تین سے پانچ سال کے اندر ریٹائر ہونے والے ہوں سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیں اور آئندہ اس حصہ کی کمی جس کے لئے نامزدگی کا اختیار انہیں دیا گیا ہو وہ سپریم کورٹ سے پینل طلب کر کے جس میں ہر آسامی کے لئے کم سے کم تین آدمیوں کا نام پیش کیا گیا ہو، پوری کریں- اس طرح میرے نزدیک وہ سوال ایک معقول حد تک حل ہو جاتا ہے کہ وہ جج کہاں سے آئیں گے جن پر اعتبار کیا جا سکے- پریوی کونسل کے مقرر شدہ جج چونکہ غیر ملک سے آئیں گے اور ایسے لوگ انہیں مقرر کریں گے جن کا زیادہ تر تعلق عدالتوں سے ہوتا ہے اس لئے وہ لوگ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، عام طور پر قابل اعتبار ہونگے- اسی طرح وہ ایک تہائی جج جو سپریم کورٹ کی سفارش سے لیکن گورنر جنرل کے انتخاب سے مقرر ہونگے ان پر بھی اعتبار کیا جا سکتا ہے- کانسٹی چیوشن کے متعلق جو مقدمات اس کورٹ میں پیش ہوں گے وہ تین قسم کے ہو سکتے ہیں- ایک وہ جو حکومتوں کی طرف سے ہوں- یعنی صوبوں یا ریاستوں کی طرف سے (اگر ریاستیں فیڈریشن میں شامل ہوں-( دوسرے مقدمات قومی یا مذہبی اقلیتوں کی طرف سے- تیسرے افراد یا مجموعہ افراد یعنی کمپنیوں ٹرسٹوں وغیرہ کی طرف سے- جو مقدمات کہ حکومتوں یا