انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 429

۴۲۹ قوموں کی طرف سے ہوں ان کے لئے شرط ہو کہ سات جج ان کا فیصلہ کریں- جن میں سے چار لازماً ان ججوں میں سے ہوں جنہیں پریوی کونسل کی سفارش پر تاج نے مقرر کیا ہو اور جو مقدمات افراد یا مجموعہ افراد کی طرف سے ہوں ان کے لئے تین جج کافی ہوں اور کوئی قید نہ ہو کہ وہ کس قسم کے ججوں میں سے ہوں- کانسٹی چیوشن میں یہ قانون بھی رکھ دیا جائے کہ اگر پندرہ سال کے بعد صوبہ جاتی کونسلوں میں سے اسی فیصدی کونسلیں حقیقی اکثریت کے ساتھ یہ قانون پاس کر دیں کہ آئندہ سپریم کورٹ کے جج پریوی کونسل کی طرف سے مقرر نہ ہوں بلکہ کسی اور طریق سے جس پر وہ متفق ہوں، مقرر ہوں تو ان کے اس ریزولیوشن کے مطابق عمل ہو- سپریم کورٹ کے پاس قانون اساسی کے متعلق کیس چلانے کا طریق میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ قانون اساسی کے متعلق مقدمات تین قسم کے ہو سکتے ہیں- جو افراد یا مجموعہ افراد کی طرف سے ہوں- جو جماعتوں یا قوموں کی طرف سے ہوں- یا جو حکومتوں کی طرف سے ہوں- ان تینوں قسم کے مقدمات میں سے دو قسم کے یعنی افراد کی طرف سے یا جماعتوں کی طرف سے جو مقدمات ہوں وہ پھر دو قسم کے ہو سکتے ہیں- یعنی جو صوبہ جاتی قانون اساسی کے متعلق ہوں یا جو اتحادی قانون اساسی کے متعلق ہوں- ان میں سے جو تو صوبہ جاتی قانون اساسی کے متعلق ہوں، وہ صوبہ جاتی ہائی کورٹوں میں پیش ہوں- اور جو اتحادی قانون اساسی کے متعلق ہوں وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوں- سیاسی حقوق کے مقدمات کس طرح سپریم کورٹ میں جائیں؟ سائمن کمیشن نے لکھا ہے کہ اگر کورٹ کے ذمے مختلف قوموں کے حقوق کے تصفیہ کا سوال رکھا گیا تو مقدمات بہت بڑھ جائیں گے- گو تجربہ کے بعد ہی ایسی باتوں کا علم ہو سکتا ہے- لیکن کوئی حرج نہیں کہ اس کی روک کے لئے بھی کچھ قانون مقرر کر دیئے جائیں- میرا خیال ہے کہ مندرجہ ذیل قیود سے اس میں روک تھام ہو سکتی ہے- (۱) جب جھگڑا صوبہ جاتی حکومتوں یا ریاستوں اور مرکزی حکومت کے درمیان ہو اور آپس میں سمجھوتہ نہ ہو سکے تب گورنر جنرل سے اپیل کی جائے جو دونوں فریق میں صلح کرانے