انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 406

۴۰۶ اب رہا یہ سوال کہ کتنا عرصہ اکثریت کو بیدار کرنے کے لئے ملنا چاہئے سو اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں- اس جگہ اصولی طور پر اس قدر اور کہنا چاہتا ہوں کہ کامل صوبہ جاتی آزادی کے حصول کے بعد پندرہ سال یعنی تین الیکشن کا عرصہ اس غرض کے لئے ضروری ہے اور صوبہ جاتی حکومت کی تکمیل کا عرصہ اگر ہم دس سال فرض کریں تو پچیس سال کا عرصہ اس غرض کے لئے بہت مناسب ہے- اس عرصہ کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ اس عرصہ سے کم میں قوم کی تعلیم اور اقتصادی حالت کو درست کرنا بہت مشکل کام ہے- جہاں اقلیتوں کو حفاظت دی گئی ہے ان کے متعلق بھی میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ اس عرصہ کے بعد جداگانہ انتخاب کا حق ان سے لے لیا جائے لیکن مقررہ نشستوں کے ساتھ مخلوطانتخاب کا حق ان کے پاس اس وقت تک رہے جب تک ان کی مرضی ہو- اس کے بعد میں حق نیابت کی مقدار کے سوال کو لیتا ہوں- جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اقلیتیں دو قسم کی ہوتی ہیں- ایک تعداد کے لحاظ سے اور ایک ضعف اور کمزوری کے لحاظ سے- پس اگر اقلیتوں کے حق کی حفاظت کی ضرورت تسلیم کر لی جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جو اقلیت ظاہری نہیں بلکہ معنوی ہے وہ بھی اسی طرح حفاظت کی محتاج ہے جس طرح کہ ظاہری- اور جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ معنوی اقلیت بھی حفاظت کی محتاج ہوتی ہے، تو اسے طاقت پہنچانے کے لئے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جس قدر زیادہ سے زیادہ حق اسے جائز طور پر دیا جا سکے اسے ملنا چاہئے تاکہ وہ طاقت حاصل کر سکے- اگر زیادہ سے زیادہ جائز حق اسے نہ دیا جائے تو جس غرض سے اسے حفاظت دی گئی ہے وہ پوری نہیں ہو سکے گی اور ایک اکثریت کا زیادہ سے زیادہ جائز حق وہ تناسب نیابت ہے جو اسے تعداد کے لحاظ سے اسے مل سکتا ہے- پس عقلا ایک اکثریت جو اس قدر کمزور ہو کہ اقلیت سے بھی اسے خطرہ لاحق ہو اسے پورے طور پر وہ حق ملنا چاہئے کہ جو تعداد کے لحاظ سے اسے مل سکتا ہے- اور اس دلیل کی بناء پر پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو اگر واقعہ میں اپنی کمزوری دور کرنے کا موقع دینا ہے تو لازمی طور پر پچپن اور چون فیصدی حق نیابت دینا لازمی ہے- چونکہ میرے مقرر کردہ اصول کے مطابق پنجاب اور بنگال کی اکثریت کو صرف ایک معین مدت تک جو عقلاً ان کے لئے اپنی کمزوری دور کرنے کے لئے ضروری ہے حفاظت حاصل ہو گی اس لئے کمیشن کا یہ اعتراض بھی دور ہو جاتا ہے کہ قانوناً کسی کو مستقل اکثریت نہیں مل