انوارالعلوم (جلد 11) — Page 407
۴۰۷ سکتی- کیونکہ یہ اکثریت مستقل نہیں ہو گی بلکہ عارضی ہو گی اور پچیس سال کے بعد سب فریق آزاد ہوں گے کہ ووٹروں کو اپنی پالیسی بتا کر اپنے حق میں کر لیں بلکہ اس عرصہ میں سیاسی پالیسیاں قائم ہو چکی ہوں گی- غالب امید ہے کہ مذہبی بنیاد پر الیکشن کی جنگ کا زمانہ بھی گذر چکا ہو گا اور سیاسی سوالات پر الیکشن کا مقابلہ شروع ہو چکا ہو گا اور ان احتیاطوں کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی جو آج نہایت اہم اور ضروری معلوم ہوتی ہیں- کمیشن کے اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے کہ اکثریت کی اکثریت کو قانون کی مدد سے قائم رکھنا اصول کے خلاف ہے میں ایک تجویز بھی پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور بنگال کو دو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے- یعنی ایک وہ حلقہ ہائے انتخاب جن میں ایک مذہب کے پیرؤوں کے ووٹ اسی فیصدی یا اس سے زائد ہوں- یعنی اکثریت اور اقلیتوں کے ووٹوں کی نسبت ایک اور چار کی ہو یا اس سے بھی زیادہ ہو- ایسے تمام حلقہ ہائے انتخاب میں مخلوط انتخاب کر دیا جائے اور جن حلقہ ہائے انتخاب میں اس سے کم فرق ہو ان میں جداگانہ انتخاب رہے- اس طرح دونوں ملکوں میں بعض حصوں سے تو جداگانہ انتخاب پر ممبر آئیں گے اور بعض حصوں سے مخلوط انتخاب کے ذریعہ- لیکن چونکہ نسبت ووٹروں کی ایک اور چار کی ہو گی اس لئے جب تک اکتیسں فیصدی ووٹ اقلیت اکثریت سے نہیں چھینے گی اس وقت تک اس پر فتح نہیں پا سکے کی- اس ذریعہ سے ایک ہی وقت میں دونوں قسم کے تجربے شروع ہو جائیں گے اور اکثریت کو کوئی ایسا خطرہ بھی نہ ہو گا جس کا علاج نہ ہو سکے- جس حلقہ میں جداگانہ انتخاب رہے وہ انہیں شرائط کے ساتھ جو میں پہلے لکھ چکا ہوں پچیس سال کے بعد بند ہو جائے- اس طریق سے اکثریت قانونی اکثریت نہیں کہلا سکے گی کیونکہ اس کا ایک حصہ مخلوط انتخاب سے بغیر کسی قانون کی مدد کے آیا ہو گا- اگر کہا جائے کہ ایک اور چار کا فرق ایسا بڑا فرق ہے کہ اس میں اکثریت کا کامیاب ہونا یقینی ہے پس یہ بھی ایک قسم کی قانونی مدد ہے- تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فائدہ دونوں قوموں کو یکساں ملے گا- دوسرے اگر یہ بات قانونی مدد کہلانے کی مستحق ہو گی تو کیوں سی-پی اور مدراس کے انتخاب جہاں مسیحی اور مسلمان مل کر بھی پندرہ فیصدی سے کم ہیں قانونی طور پر ہندؤوں کو اکثریت دینے والے نہ قرار دیئے جائیں؟ دوسرا سوال ان صوبوں کا ہے جن میں مسلمانوں کی اقلیت ہے- سو صوبہ سرحد اور سندھ دونوں کے آزاد حکومت حاصل کرنے پر اس سوال کا حل خودبخود ہو جاتا ہے- اگر