انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 402

۴۰۲ بیٹھنے کیلئے بلایا جائے اور وہ اس دعوت کو قبول کر لے تو آئندہ اس کی اولاد کا بھی حق ہو جائے گا کہ اسے بھی اس غرض کیلئے بلایا جائے- ۵۹؎ یونیورسٹی کی نشستیں بھی اسی اصل کے ماتحت ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو الگ ممبر دیئے جائیں- کیوں انہیں نہ کہا جائے کہ عام حلقہ انتخاب سے اپنے آدمیوں کو بھیجیں- تجارت و صنعت کی نشستیں بھی ایسی ہی ہیں لیکن ان سب منافع کی حفاظت کیلئے اہمیت کے لحاظ سے بہت کم ہی علیحدہ انتخاب کی اجازت دی جاتی ہے لیکن مذہب خطرہ میں ہو تو اس طریق کو بے اصول سمجھا جاتا ہے- یہ واقعہ میں حیرت کی بات ہے اور سمجھ سے بالا ہے- سائمن کمیشن کی تجویز کی غلطیاں ظاہر کرنے کے بعد اب میں وہ تجاویز بتاتا ہوں جو میرے نزدیک معقول ہیں اور جن پر عمل کر کے عدل و انصاف قائم ہو سکتا ہے- سو سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گو بنگال اور پنجاب میں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن اکثریت سے مراد صرف تعداد کی اکثریت نہیں ہوتی بلکہ حقیقی اکثریت ہوتی ہے اور وہ اکثریت ان صوبوں میں بھی مسلمانوں کو حاصل نہیں ہے- شروع شروع میں تو مسلمانوں کو ہر شعبہ زندگی میں خود حکومت نے کمزور کیا تھا کیونکہ عذر کے بعد حکومت کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو آگے بڑھانا حکومت کے مفاد کے خلاف ہوگا- قانون کوئی نہیں تھا لیکن عملاً حکام کی یہی پالیسی تھی کہ وہ مسلمانوں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے تھے- یہ روح اس حد تک ترقی کر گئی تھی کہ ہمارے وطنی شاعر غالب کی سوانح میں اس بارہ میں ان کا ایک عجیب تجربہ لکھا ہے- وہ آخری شاہ دہلی کے درباری تھے اور خود نواب زادے تھے- غدر کے بعد تباہی آئی تو یہ بے چارے بھی فاقوں کو پہنچ گئے- آخر کسی نے مشورہ دیا کہ نوکری کر لیں- انہی دنوں انگریزی مدرسہ میں فارسی کی پروفیسری کی جگہ خالی ہوئی- یہ اس انگریز کے پاس جا پہنچے جس کے سپرد پروفیسر کا انتخاب تھا- وہاں پہنچے تو اس نے دیکھتے ہی کہا کہ ‘’ہم مسلمان کو نہیں مانگتا’‘ غالب سا حاضر جواب بھلا کہاں چوکتا تھا- بولے صاحب! مسلمان کہاں ہوں آپ کو دھوکا ہوا- اگر عمر بھر ایک دن شراب چھوڑی تو کافر اور ایک دن بھی نماز پڑھی ہو تو مسلمان- مگر ان کی حاضر جوابی کام نہ آئی اور صاحب نے گھر سے نکال کر دم لیا- اس قسم کے واقعات ہر روز پیش آتے تھے اور اس وقت تک پیش آتے رہے جب تک لارڈ کرزن (LORD CURZON)نے اس ظلم کا ازالہ نہ کیا اور خاص سرکلر کے ذریعہ سے