انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 7

۷ نزدیک جھٹکا پر مسلمانوں کا اعتراض بھی ویساہی فضول ہے جیسے گائے کے ذبیحہ پر ہندوؤں کا لیکن سمجھوتہ کراتے وقت یہ سوال نہیں ہوتا کہ مطالبہ معقول ہے یا نہیں بلکہ لوگوں کے احساسات کا جو غلط ہوں یا صحیح لحاظ رکھنا پڑتا ہے گو مجھے جھٹکا پر کوئی اعتراض نہیں لیکن چونکہ اب دوسرے مسلمانوں کے احساسات کا بھی سوال آگیا ہے جن کو جھٹکا پر اعتراض ہے اور پھر چونکہ میں جج نہیں بلکہ ایک سمجھوتہ کرانے والے کی حیثیت رکھتا ہوں۔میرا فرض ہے کہ طرفین کے احساسات کا یکساں خیال رکھوں۔اس گفتگو کے دوران میں جتھہ دار صاحب نے مجھے دھمکی دی کہ اگر گاؤ کُشی کی اجازت ہوئی تو آپ یاد رکھیں کہ فساد ہو جائے گا اور اسی دهمکی کے جواب میں میری شرافت کا صرف ایک ہی تقاضا تھا کہ میں انہیں یہ کہتا کہ اگر آپ فساد سے ڈرا کر اس امر کو روکنا چاہتے ہیں تو میں ہرگز ہرگزر اسے نہیں روکوں گا۔اور یہی میں نے ان کو جواب دیا۔چونکہ میں نے دیکھا کہ سکھ صاحبان میرے لئے ایسا موقع مہیا کرنے پر تیار نہ تھے کہ میں دوسرے فریق پر زور دے کر اگر ان کو کلّی طور پر نہ روک سکوں، کم از کم ایک ایسا سمجھوتہ کرا دوں جس سے فریقین کی کم سے کم دل آزاری ہو اس لئے میں نے مسلمانوں کو بلوا کر ان سے مشورہ کرنا ضروری نہ سمجھا اور اس امر کا منتظر رہا کہ ہند و صاحبان کا نمائندہ جب انہیں جاکر اطلاع دے گا اور وہ مجھ سے آکر ملیں گے تو اس وقت آئند ہ طریق عمل پر غور کروں گا۔لیکن وہ لوگ پھر میرے پاس نہ آئے اور میں نے سنا ہے۔والله أعلم درست ہے یا نہیں کہ آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ جھٹکا کو چلنے دو گائے کا سوال خود زور سے طے کر لیں گے۔اس طرح یہ دونوں سوال چلتے رہے میرے کہنے پر مسلمانوں کی طرف سے جھٹکا پر کوئی اعتراض نہ ہوا اور بر سر بازار جھٹکا کی دکان کھل گئی اور مذبح کے متعلق ایک لمبے عرصہ کے غور اور ہندؤوں کے جذبات کا کافی خیال رکھنے کے بعد ڈپٹی کمشنر صاحب نے اجازت دے دی اور مدبح اس طرف بنایا گیا جس طرف کہ مسلمان گاؤں ہیں۔اور اس کی فروخت کے لئے ایسے محلّہ میں دُکان کھلوائی گئی جس کی ۰۰ ۱ فیصد آبادی مسلمان ہے۔میں نے دورانِ ملاقات میں ہندو صاحبان اور سکھ صاحبان کو بھی کہہ دیا تھا اور اب بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک ملک میں امن اسی اصول پر کار بند ہونے سے ہو گا کہ ہر قوم دوسری قوم کے معاملات میں دخل دینے سے اجتناب کرے۔مسلمانوں کو ان کی مرغوب