انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 299

۲۹۹ جائیں گے اور ان میں ہون ہوا کریں گے- میں سوچا کرتا ہوں کہ جب دہلی کی جامعمسجد آ جائے گی- ہم کیا کریں گے- ہم تمام ہندوستان کے آریہ نہیں بلکہ تمام دنیا کے آریہ جمع ہو کر ایک کانفرنس کیا کریں گے’‘- ڈاکٹر گوکل چند نارنگ ایم-ایل-سی لاہور ہائی کورٹ کی بار کے پریزیڈنٹ جو سائمن کمیشن کی پنجاب کمیٹی کے ممبر بھی تھے- فرماتے ہیں-: ‘’مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی شرم نہیں آتی کہ اگر آپ کے ایک ہندو بھائی کو مسلمان بنانے میں آپ کسی کو روکتے نہیں اور وہ باز نہیں آتا تو بہتر ہے کہ آپ وہاں کٹ کر مر جائیں’‘- ۳۲؎ یہ تو انگریزی علاقہ کے لوگوں کا حال ہے- اب ریاستوں کا حال دیکھیں- سر والٹر لارنس (SIR WALTER LAWRENCE)اپنی کتاب انڈیا جس کی ہم نے خدمت کی( میں لکھتے ہیں کہ-: لارڈ کرزن (LORD CURZON (نے میری دعوت کا انتظام کیا تھا- جنرل سر پرتاب سنگھ بہادر برادر مہاراجہ صاحب جودھ پور میرے بڑے دوست تھے- دیرتک مجھ سے باتیں کرتے رہے- دوران گفتگو میں کہنے لگے کہ ‘’میرا مقصد یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو ہندوستان میں فنا کر دوں’‘- میں نے ان کے اس تعصب کی مذمت کی اور ان کے اور اپنے مسلمان دوستوں کا ذکر کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘’ہاں میں بھی انہیں پسند کرتا ہوں لیکن مجھے زیادہ اچھا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مر جائیں’‘-۳۳؎ ان حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر حصہ ہندو لیڈروں کا خواہ انگریزی علاقہ کے ہوں یا ریاستوں کے (۱) مسلمانوں سے شدید تعصب رکھتے ہیں- (۲) وہ علے الاعلان یہ ارادہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اگر ان کو طاقت حاصل ہوئی تو وہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں گے (۳) وہ ہندوستان میں صرف ہندو راج قائم کریں گے- (۴) عیسائیوں اور مسلمانوں سے وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ان کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت دیں گے- اور اس اجازت کے ساتھ یہ شرط ہوگی کہ وہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو ہو جائیں- (۵)وہ مسلمانوں کی زبان کو مٹا دیں گے- (۶) وہ اقلیتوں کے تہواروں کو قانونا ناجائز کر دیں