انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 270

۲۷۰ کرتے ہیں کہ جب تک دوسروں کو پیس نہ دیا جائے ہم ترقی نہیں کر سکتے- وہ کامیابی کی وسیع راہوں سے بے خبر ہیں اور غالباً اس میں چُھوت چھات اور قومی تفریق کا بھی بہت کچھ دخل ہے مگر اس کا ایک ہی علاج ہے کہ ہندوستان میں رسپانسیبل گورنمنٹ کی بنیاد رکھی جائے تا کہ ہندوستان کے باشندوں کو تجربہ سے صلح و آشتی کے فوائد معلوم ہوں اور ان کے اخلاق کی اصلاح ہو- اگر اس علاج کو اختیار نہ کیا گیا تو کبھی بھی یہ نقص دور نہ ہوگا اور کبھی بھی ہندوستان آزادی کا مستحق نہ بنے گا- پس ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ کس طرح آئندہ نظام حکومت میں اس فساد کے امکانات کو کم کیا جائے نہ یہ کہ اس اختلاف کی موجودگی میں ہندوستان کو آزاد حکومت دی ہی نہ جائے- اگر ہندوستان آزادی کا مستحق ہے تو کس حد تک؟ سوال کے اس حصہ کا جواب دینے کے بعد کہ کیا ہندوستان آزادی کا مستحق ہے؟ میں سوال کے اس حصہ کو لیتا ہوں کہ اگر ہے تو کس حد تک؟ بعض لوگ اس سوال کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ہندوستان پوری آزادی کا مستحق ہے بلکہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندوستان کو برطانیہ سے الگ ہو کر اپنی حکومت قائم کرنی چاہئے- گو کانگریس کے نمائندے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں نہیں لیکن چونکہ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کے نمائندوں میں ایسے شامل ہوں جو کانگریس کے اس مطالبہ کو پیش کر دیں اس لئے میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کا یہ فعل نہ صرف ہندوستان سے دشمنی کا موجب ہوگا بلکہ دنیا سے دشمنی کا موجب ہوگا- انگلستان پر آپ خواہ کتنے الزام لگا لیں- انگلستان نے ڈومینین سٹیٹس (DOMINION STATUS) کی ایجاد سے دنیا کے اتحاد کی جو راہ کھول دی ہے وہ میرے نزدیک ایک الہٰی اشارہ ہے جو آئندہ طریق عمل کی طرف ہماری راہنمائی کر رہا ہے- ہم قوموں اور ملکوں کے سوال میں اس قدر پھنس گئے ہیں کہ ہمارے ذہن سے یہ امر بالکل اتر گیا ہے کہ ہم سب انسان ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں اور جس طرح ایک باپ کی اولاد الگ الگ جائیداد رکھنے کے باوجود پھر ایک ہی رشتہ میں