انوارالعلوم (جلد 11) — Page 205
۲۰۵ زیروں زبروں اور وقف وغیرہ کے متعلق ہے لیکن چونکہ زیر زبر اور وقف کی علامت سب بعد کی ایجاد ہیں وہ اصل قرآن کریم کا حصہ ہی نہیں ہیں اور نہ اس کا جو زید نے جمع کیا تھا-’‘ ۴؎ ‘’یہ بات یقینی ہے کہ زید نے جمع قرآن کا کام پوری دیانتداری سے کیا تھا اور علی اور ان کی جماعت کا جو بدقسمت عثمان کے مخالف تھے اس قرآن کو تسلیم کر لینا ایک یقینی ثبوت ہے کہ وہ قرآن اصلی تھا’‘- ۵؎ ‘’یہ تمام ثبوت دل کو پوری تسلی دلا دیتے ہیں کہ وہ قرآن جسے ہم آج پڑھتے ہیں لفظاً لفظاً وہی ہے جسے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لوگوں کو پڑھ کر سنایا تھا’‘-۶؎ ایک مومن کی دلیل خواہ کس قدر ہی زبردست ہو لیکن دل میں شبہ رہتا ہے کہ شاید اس نے مبالغہ سے کام لیا ہوگا- لیکن یہ اس شخص کی تحریر ہے جس نے پورا زور لگایا ہے کہ اسلام اور بانی اسلام کی شان کو گرا کر دکھائے- خدا ہی جانتا ہے کہ اس اقرار صداقت کے وقت سرمیور کا دل کس قدر غم و غصہ کا شکار ہو رہا ہوگا- لیکن چونکہ انہیں گریز کا کوئی موقع نہ ملا- اس لئے انہیں قرآن کریم کے محفوظ ہونے کا اقرار کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نظر نہیں آیا- اس شہادت کو دیکھنے کے بعد ہر شخص معلوم کر سکتا ہے کہ دشمن بھی اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ قرآن کریم ہر قسم کے دخل سے پاک ہے اور انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون کی پیشگوئی نہایت وضاحت کے ساتھ پوری ہوئی ہے اور یہ اس کی عبارت کا معجزہ ایک ایسا معجزہ ہے جس کی مثال کوئی اور کتاب پیش نہیں کر سکتی- قرآن کریم کے مفہوم کی حفاظت کا معجزہ دوسری مثال کے طور پر میں اسی آیت کے ایک دوسرے مفہوم کو پیش کرتا ہوں-: کلام کی حفاظت کئی طرح ہوتی ہے- اس کے لفظوں کی حفاظت کے ذریعہ سے بھی اور اس کے مفہوم کی حفاظت کے ذریعہ سے بھی اور اس کے اثر کی حفاظت کے ذریعہ سے بھی- میں لفظوں کے علاوہ اس کے مفہوم کی حفاظت کے معجزہ کو پیش کرتا ہوں- بالکل ممکن ہے کہ ایک کتاب کے لفظ تو ایک حد تک موجود ہوں لیکن اس کا صحیح مفہوم سمجھنے والے لوگ نہ مل