انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 206

۲۰۶ سکیں- جیسے کہ وید ہیں کہ خواہ بگڑے ہوئے نسخے ہوں لیکن بہرحال اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ تو موجود ہے- لیکن ویدوں کی زبان اب دنیا سے اس قدر مٹ چکی ہے کہ کوئی شخص یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وید کی عبارت کا مطلب کیا ہے؟ شرک اور توحید، توہم پرستی اور ستارہ پرستی اور طب اور شہوانی تعلقات کی باریکیاں اور ہر قسم کی متضاد باتیں اس سے نکالی جاتی ہیں- لفظ ایک ہوتے ہیں، معنوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے- ایک قوم دام مارگ کی تعلیم اس سے نکالتی ہے تو دوسری ویدانت کی- اور اختلاف مفہوم میں نہیں بلکہ ترجمہ میں ہوتا ہے اور ایک جگہ نہیں بلکہ شروع سے لے کر آخر تک سارے ہی وید میں اختلاف ہوتا ہے- لیکن قرآن کریم کی زبان ایسی محفوظ ہے کہ گو بعض جگہ پر ایک لفظ کے مختلف معانی کی وجہ سے معنوں کا اختلاف ہو جائے لیکن اول تو وہ اختلاف محدود ہوتا ہے- دوسرے اس کا حل خود قرآن کریم میں موجود ہوتا ہے- یعنی اس کے غلط معنی کرنے ممکن ہی نہیں ہیں- کیونکہ قرآنکریم اپنی تفسیر خود کرتا ہے اور اگر کوئی شخص غلط معنی کرے تو دوسری جگہ کسی اور آیت سے ضرور اس کے معنوں کی غلطی ثابت ہو جاتی ہے اور اس طرح وانا لہ لحفظون کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ ہم ہی اس کے محافظ ہیں- قرآن کریم کی ایک آیت دوسری کی حفاظت کرتی ہے یعنی قرآن کریم کے مفہوم کے سمجھنے کے لئے کسی بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں ہوتی- ہم نے خود ہی اس کے اندر ایسا سامان پیدا کیا ہوا ہے کہ غلطی فوراً پکڑی جاتی ہے اور غلطی کرنے والا اپنے معنوں کی قرآن کریم کے دوسرے حصوں سے تطبیق پیدا نہیں کر سکتا- یہ قرآن کریم کا ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس کی مثال بھی کسی اور کتاب میں نہیں مل سکتی- دوسری کتب اس طرح لکھی ہوئی ہیں کہ اگر ایک حصہ کے معنوں کو بدل دیا جائے تو دوسرے حصے ہر گز اس غلطی کو ظاہر نہیں کرتے لیکن قرآن کریم کی ہر آیت کی حفاظت کرنے والی دوسری آیتیں موجود ہوتی ہیں- جب کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو فوراً وہ دوسری آیات اس غلطی کو ظاہر کر دیتی ہیں اور اس طرح غلطی کرنے والا پکڑا جاتا ہے- غرض رسول کریم ﷺ بطور ملہم بھی سب ملہموں سے افضل ہیں- کیونکہ آپ کا الہام زندہ ہے- اور اس قدر زبردست معجزانہ اثرات اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی اور الہام اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور کوئی اور کتاب آپ کی کتاب کے مقابلہ میں نہیں