انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 179

۱۷۹ اس وجہ سے کہ ناگری کے حروف عربی اور فارسی کے الفاظ کے پوری طرح متحمل نہیں ہو سکتے- پس لازماً آہستہ آہستہ ایسے الفاظ متروک ہوتے چلے جائیں گے اور صرف بھاشا ہی کے الفاظ رہ جائیں گے جن کی کہ ناگری زبان پوری طرح متحمل ہو سکتی ہے- میرے نزدیک یہ زیادتی مسلمانوں کے لئے ہر گز نفع رساں نہیں بلکہ اس کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے- صوبہ جاتی حکومتوں پر مرکزی حکومت کا قبضہ تیسرا پارلیمنٹ کے عنوان کے نیچے مادہ نمبر۱۳- الف میں ایک اور جزو بڑھایا گیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں-: ‘’اشد ضرورتوں کے وقت اور ایسے معاملات میں جو کہ دو صوبوں کے درمیان ہوں ہر قسم کی طاقتیں حاصل ہونگی حتیٰ کہ یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی صوبے کی گورنمنٹ کے قانونی یا انتظامی فیصلوں کو موقوف کر دے یا معرض التواء میں ڈال دے’‘- (ب)‘’عدالت اعلیٰ کو ایسے معاملات میں جن کا فیصلہ پارلیمنٹ یا مرکزی حکومت نے اوپر کے قانون کے دیئے ہوئے اختیارات کے ماتحت کیا ہو دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہوگا’‘- یہ قاعدہ بھی نہایت ہی خطرناک ہے- اس قاعدہ کے ابتدائی الفاظ کہ ‘’اشد ضرورت کے وقت حکومت اختیاری کو صوبہ جات کی حکومتوں کے قانون کو بدلنے کا حق حاصل ہوگا-’‘ یہ صوبہ جات کی حکومت کو بالکل فضول اور لغو کر دیتے ہیں- بقیہ حصہ قانون کا بے شک اگر قانونی زبان میں اور ایسے الفاظ میں رکھا جائے کہ اس کے الفاظ کی کئی تاویلات نہ ہو سکیں تو بیشک مفید ہو سکتا ہے- لیکن پہلا حصہ نہایت ہی خطرناک ہے اور اس کی موجودگی میں مرکزی حکومت جس میں ہندوؤں کی کثرت ہوگی ہر وقت مسلمانوں کی کثرت والے صوبوں میں دخل اندازی کر کے نقصان پہنچا سکتی ہے- پس میرے نزدیک ‘’اشد ضرورت کے وقت’‘ کے الفاظ اڑا دینے چاہئیں اور باقی حصے کے الفاظ یوں کر دینے چاہئیں کہ کسی صوبے کی حکومت کو کوئی ایسا قانون بنانے کا اختیار نہیں ہوگا جو دوسرے حصے کی حکومت یا اس کے افراد پر براہراست اثر انداز ہو- اگر کسی صوبے کی حکومت کوئی ایسا قانون بنائے گی تو