انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 121

۱۲۱ میں یہ اشارہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول میں آسمان و زمین کے کمالات کے ظہور کے سامان رکھے گئے ہیں اور اسی کے لحاظ سے ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔پس قرآن کریم کا نزول ان تمام صفات پر مشتمل ہے جن سے یہ دنیا وابستہ ہے اور فَاطِرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ کی صفت کا ظہور اس کے ذریعہ سے ہواہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایک مرکز پر ساری دنیا جمع نہ ہو خدا تعالیٰ کی ہرلحاظ سے تعریف نہیں کی جاسکتی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ تبھی کہا جاسکتا ہے جب ساری دنیا کے لحاظ سے رَبُّ الْعَالَمِیْن کی صفت کا اظہار ہو۔اسی لیے فرمایا کہ اب جو تعلیم آئی ہے یہ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَایَشَآءُ کے مطابق آئی ہے۔پہلے صرف دو دو تین تین چار چار کمالات ظاہر کرنے کے لئے آئی تھی پس قرآن کریم کے نزول میں زمین و آسمان کے کمالات کے ظہور کے سامان رکھے گئے ہیں۔صفاتِ الٰہیہ اور ان کی مظہریت یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی کتاب میں کسی صفت کا ذکر ہونا یہ اور امر ہے اور اس کی صفت کا مظہر ہونا اور امر ہے۔یوں تو رَبُّ الْعَالَمِیْن کی صفت اور کتب میں بھی ہے مگر وہ اس کی صفت کا مظہر ہونے کی مدعی نہیں ہیں۔قرآن کریم کے متعلق اﷲ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتا ہے وَ اِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۲۴؂ یہ کتاب رَبُّ الْعَالَمِیْنَکی صفت کے ماتحت نازل ہوئی ہے۔چونکہ یہ سارے جہان کو مخاطب کرتی ہے اس لئے سار ی کی ساری صفات اس میں ظاہر کی گئی ہیں۔پس قرآن کریم خدا تعالیٰ کی تمام صفات کا مظہر ہے۔ظاہری حُسن میں برتری ایک اور وجہ فضیلت (جسے میں نے بارھویں نمبر پر بیان کیا تھا) کسی چیز کا ظاہری حسن میں دوسری اشیاء پر فائق ہونا ہوتا ہے۔کیونکہ ایک ہی قسم کی چیزوں میں سے انسان طبعی طور پر ظاہری حسن میں فائق چیز کو منتخب کرتا ہے۔بلکہ سب سے پہلے یہی چیز انسان کی دلکشی کا موجب بنتی ہے۔میں نے جب اس لحاظ سے دیکھا تو قرآن کریم کو ظاہری طور پر بھی خوبصورت پایا۔بلکہ ایسا خوبصورت پایا کہ گو یورپ نے اس خوبصورتی کو مٹانے کے لئے اپنا سارا زور صرف کردیا مگر پھر بھی وہ ناکام رہا۔اس خوبصورتی کو مٹانے کے لئے یورپ نے چار طریق اختیار کیے ہیں۔عیسائیوں کے چار اعتراضات اول۔یہ کہا گیا کہ قرآن کریم کا سٹائل (نعوذ باﷲ ) نہایت بھدّاہے۔