انوارالعلوم (جلد 11) — Page 621
انوار العلوم جلد ۶۲۱ فضائل القرآن (۳) تین ہی صفات کتاب کی اور تین ہی کتاب کے حاملوں کی بیان ہوئی ہیں۔ لیکن کرام کے سوا جو دونوں میں متحد ہے باقی دونوں صفات میں فرق ہے۔ کتاب کیلئے مَرْفُوعَةٌ اور مُطَهَّرَة فرمایا ہے اور انسانوں کیلئے سَفَرَ بَرَدَة - لیکن اگر ہم غور کریں تو در حقیقت اس اختلاف میں بھی اتحاد ہے ۔ سَفَرَة کا جوڑا مَرْفُوعَة سے ہے۔ کیونکہ اونچی چیز او جھل ہوتی ہے۔ اور سفر کے معنی خفاء کو دور کرنے کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب سَفَرَتِ الرِّيحُ الْفَيْحَ عَنْ وَجْهِ السَّمَاءِ کہیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں كَشَفَتْهُ یعنی ہوانے گردو غبار کو اڑا کر مطلع صاف کر دیا۔ اسی طرح مُطَهَّرَة کے مقابلہ میں بَوَرَة فرمایا ہے۔ کیونکہ مُطَهَّرَة کے معنی ہیں جس میں طہارت کے سب سامان ہوں اور برکۃ کے معنی بھی یہی ہیں کہ جن میں سب اصول خیر ہوں۔ پس کتاب کی تینوں صفات کے مقابلہ میں ویسی ہی تین صفات والے انسانوں کا ذکر کیا جو اس کی حفاظت کریں گے۔ الله الله !! کیسا زبردست دعوئی ہے اور کس طرح اس دعوئی کو زبردست طاقتوں سے پورا کیا گیا ہے۔ سب سے پہلا قدم غلطی کی طرف رسول کریم ملی ایم کی وفات پر اٹھنے لگا تھا جب کہ آپ کی وفات میں شبہ پیدا ہو گیا اور گویا آپ کو خدائی کا مقام ملنے لگا تھا۔ مگر خدا تعالی نے سورۃ نور کی آیت استخلاف کے ماتحت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کھڑا کر کے یہ اختلاف دور کر دیا۔ انہوں نے قرآن کریم ہی کی یہ آیت پیش کی کہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۸۶ اور اس طرح پیش کی کہ اس اختلاف کے بانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے نہ رہ سکے اور گر گئے۔ مگر غور کر کے دیکھو کہ مسیح کے بعد کیا ہوا۔ ابھی وہ زندہ ہی تھے کہ صلیب کے واقعہ کے بعد بگاڑ شروع ہو گیا۔ اور حضرت موسی کی بھی زندگی میں ہی خدا تعالی سے لوگ شرک کرنے لگے وہاں حضرت ہارون جیسے اور مسیح کے وقت پطرس جیسے لوگ کچھ نہ کر سکے اور حواریوں کی موجودگی میں گمراہی شروع ہو گئی گو حواری خدا تعالی کے فضل سے محفوظ تھے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ان کی تعریف آئی ہے اور شرک بھی بہت بعد جا کر پھیلا ہے لیکن خرابی شروع ہو گئی تھی جو اباحت کے رنگ میں تھی۔ اس کے بعد جس جس زمانہ میں تغیر ہوا اس کی اصلاح ہو گئی۔ اور ہمیشہ امت محمدیہ میں ایسے انسان پیدا کئے جاتے رہے جو قرآن کریم کے ذریعہ ہر قسم کے اختلافات کو دور کرتے رہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب کی حالت بدلتی چلی گئی اور اصلاح کرنے والے کوئی