انوارالعلوم (جلد 11) — Page 616
انوار العلوم جلد 414 فضائل القرآن (۳) باز رہنا پڑا ۔ یہ بھی شب ہی تھے جو اس پر گرے ۔ انجیل کے متعلق کیوں ایسا نہیں ہوتا۔ پھر روسی حکومت جو قرآن سے جنگ کی آیات نکالنا چاہتی تھی وہ خود جنگ کی لپیٹ میں آگئی۔ دوسرا ذریعہ جس کی و وجہ سے قرآن میں حفاظت قرآن اور یوروپین مستشرقین تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالٰی نے مذکورہ بالا آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ قرآن کے لئے جرس مقرر ہیں۔ یعنی اس کے نگران ہیں۔ اس وجہ سے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ اس مضمون کو دوسری جگہ زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةً فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ - فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ - بِأَيْدِى سَفَرَةٍ - كِرَامِ بَرَرَةٍ ۔ یعنی یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ہے جو عزت والے بڑی بلند شان رکھنے والے اور پاک ہیں۔ اور یہ صحیفے دور دور سفر کرنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو بڑے معزز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہیں۔ یہ آیت ایسی عجیب ہے کہ اسے پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا عیسائی لٹریچر کو مد نظر رکھ کر اتاری گئی ہے۔ میں نے موجودہ عیسائی لٹریچر سے ایسے الفاظ نکالے ہیں جو اس آیت کی تشریح معلوم ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اس کلام کے ہمیشہ محفوظ رکھنے کا سامان ہم نے کیا ہے اور وہ یہ کہ (1) یہ کتاب ہمیشہ مکرم رہے گی۔ اس کا ادب ہم لوگوں کے دلوں میں ڈال دیں گے اور لوگ ادب اور تعظیم کی وجہ سے اس کو خراب نہیں کریں گے۔ اس ادب کو سرولیم میور یوں تسلیم کرتا ہے۔ The two sources would correspond closely with each other; for the Coran, even while the Prophet was yet alive, was regarded with a superstitious awe as containing the very words of God; so that any variations would be reconciled by a direct reference to Mahomet himself, and after his death to the originals where they existed, or copies from the same, end to the memory of the Prophet's confidential friends and amanuenses۔ A یعنی قرآن کا لوگوں پر اتنا رعب تھا کہ اس کے متعلق وہ خود اپنی عقل سے کوئی فیصلہ نہ