انوارالعلوم (جلد 11) — Page 617
۶۱۷ فضائل القرآن(نمبر ۳) کرتے تھے بلکہ رسول سے پوچھتے تھے یا پھر حفاظ اور قرآن کی نقلوں سے مقابلہ کرتے تھے۔خود بخود کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے۔دوسری بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ مرفوعۃ یعنی باطنی طور پر بھی اس میں کو ئی خرابی نہیں آ سکتی کیونکہ ا سکے مطالب کو بلند بنایا گیا ہے۔اور اس میں علوم ایسے رنگ میں رکھے گئے ہیں کہ انہیں خدا کا کلام نہ یقین کرنے والے سمجھ ہی نہیں سکتے۔اور بگاڑتا کوئی اسی وقت ہے جب مطلب سمجھ سکے اور جانتا ہو کہ اس میں یہ تغیر کر دوں گا تو یہ بات بن جائے گی۔غرض فرمایا۔قرآن کے مطالب ایسے رنگ میں رکھے گئے ہیں کہ جو لوگ انہیں سمجھتے ہیں وہ بگاڑتے نہیں اور جو دشمن ہیں وہ کہتے ہیں اس میں رکھا ہی کیا ہے یہ بے معنی الفاظ کا مجموعہ ہے اس وجہ سے وہ بگاڑنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔سر ولیم میور اس بارہ میں لکھتا ہے۔The contents and the arrangement of the Coran speak forcibly for its authenticity۔All the fragments that could obtained have , with artless simplicity , been joined togather۔The patchwork bears no marks of a desidning genius or moulding hand ۸۳۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ کسی نے اسے بگاڑا نہیں۔تمام ٹکڑے اس سادگی سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے گئے ہیں کہ پتہ لگتا ہے کہ وہ گودڑی جس کے ساتھ چیتھڑے جوڑے گئے ہیں کسی عقلمند نے انہیں نہیں جوڑا۔اب اس قسم کے مرفوع کلام میں کسی کو جرأت ہی کب ہو سکتی ہے کہ کچھ داخل کرے۔جو سمجھتے ہیں وہ بَرَرَۃٍ ہیں اور جو نہیں سمجھتے وہ اسے ایک بے معنی کلام سمجھتے ہیں اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔تیسری بات یہ بتائی کہ یہ کتاب ہر نقائص سے پاک بنائی گئی ہے اور ایسی اعلیٰ چیز میں جو دخل دے وہ فوراً پکڑا جاتا ہے۔اس کی مثال کشمیر میں جا کر دیکھو۔سلطنت مغلیہ کی جو عمارتیں بنی ہوئی ہیں ان میں جہاں جہاں بعد میں دخل دیا گیا ہے اس کا فوراً پتہ لگ جاتا ہے۔اسی طرح تاج محل کی حالت ہے۔معمولی عمارت میں اگر کوئی پیوند لگا دے تو وہ چھپ سکتا ہے لیکن اگر