انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 612

۶۱۲ فضائل القرآن(نمبر ۳) کوئی بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو فوراً اس پر ایک شعلہ مارتا ہوا ستارہ ا ٓگرے گا۔گویا لمس تو بالکل بند ہے لیکن سمع ہو سکتا ہے مگر اس میں بھی یہ انتظام ہے کہ جو جھوٹ ملا کر بات کرے اور بد نیتی سے سنے اس کی فوراً تردید ہو جاتی ہے۔غرض قرآن کریم کی ایسی کامل حفاظت کر دی گئی ہے کہ اسے لفظاً بھی کوئی شخص بگاڑ نہیں سکتا۔اور مفہوم بگاڑنے والوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے ایسے سامان رکھے ہیں کہ ان سے اس بگاڑ کی اصلاح ہوتی رہے گی۔شاید کوئی خیال کرے کہ اس جگہ تو آسمان کا لفظ ہے۔پس آسمان کو چھونا ہی مراد ہو سکتا ہے نہ کہ کسی اور چیز کو۔سو یاد رکھنا چا ہئے کہ (۱)وہ آسمان جس سے کلام نازل ہو تا ہے یہ مادی آسمان نہیں ہو سکتا ورنہ اﷲ تعالیٰ کو مادی ماننا پڑے گا۔پھر یہ آسمان تو مادہ لطیف ہے کوئی ٹھوس چیز تو نہیں جس کو چھونے اور بیٹھنے کا کچھ مطلب ہو۔پس آسمان جس سے کلام اترا ہے اس کے معنے کچھ اور ہی کرنے پڑیں گے۔(۲)عربی زبان کے محاورہ کی رو سے سبب اور مقام کے لفظ کو استعارۃً سبب اور مقام سے نکلی ہوئی چیز کے لئے بھی استعمال کر لیتے ہیں۔چنانچہ یہی سماء کا لفظ بارش کے معنوں میں بھی استعمال ہو تاہے۔بارش چونکہ اوپر سے نازل ہو تی ہے اس لئے اسے بھی سما ء کہہ دہتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَأَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْھمْ مِّدْرَارًا۔۷۵؂ ہم نے ان پر بادلوں کو موسلا دھار بارش برساتے ہوئے بھیجا۔اسی طرح سبزی ترکاری کو بھی سماء کہتے ہیں کیونکہ وہ پانی سے پیدا ہو تی ہے۔کہتے ہیں۔مَازِلْنَا نَطَاُ السَّمَآءَ حتّٰی اَتَیْنَا کُمْ۔ہم سماء یعنی سبزی کو کچلتے ہوئے تمہارے گھر تک آئے۔پس اس جگہ سماء سے مراد آسمانی کتاب ہے۔ورنہ یہ کہنا بے جا ہو گا کہ ہم پہلے وہاں بیٹھ کر سنا کرتے تھے اب ایسا نہیں کر سکتے۔پہلے کیوں سنتے تھے اور اب کیوں نہیں سنتے۔ہمیں کوئی ایسا سماء نکالنا پڑے گا جسے پہلے چھو لیا کرتے تھے اور اب نہیں چھوسکتے۔سو اس کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سماء آسمانی کتابوں کا ہے کہ پہلے لوگ ا ن کو بگاڑ لیتے تھے۔چنانچہ سورۃ بینہ میں آتا ہے۔لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ أَھلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَأْتِیَھمُ الْبَیِّنَۃُ۔رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْ صُحُفًا مُّطَھرَۃً۔فِیْھا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ۔۷۶؂ فرمایا یہ اہل کتاب اور مشرکین اپنی جہالت کو کبھی چھوڑنہ سکتے تھے جب تک کہ ان کے پاس ایک بینہ نہ آجاتی۔بینہ