انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 611

۶۱۱ فضائل القرآن(نمبر ۳) ہے۔ایک اور جگہ بھی اس کی تشریح آئی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن سن کر جب کچھ جنات واپس گئے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہ وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآء فَوَجَدْنَاھا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَشُھبًا۔وَأَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن یَسْتَمِعِ الْآنَ یَجِدْ لَہُ شِھابًا رَّصَدًا۔۷۴؂ یعنی پہلے تو آسمان کو ہم چھو لیا کرتے تھے لیکن اب جو گئے تو دیکھا کہ اس کی حفاظت کے لئے بڑے بڑے پہرہ دار بیٹھے ہیں اور آسمان کو ہم نے شُھُب سے بھرا ہوا پایا پھر پہلے تو ہم آسمان میں بیٹھ بیٹھ کر باتیں سنا کرتے تھے لیکن اب کوئی سننے کے لئے جاتا ہے تو اسے پتھر پڑتے ہیں۔اس سے بات بالکل وا ضح ہو جاتی ہے۔یہ آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے یہ تو جوّہے اور ایسی چیز نہیں جس میں کوئی بیٹھ سکے اور اگر فرض کر لو کہ کوئی بیٹھ سکتا ہے تو ا سکا مطلب یہ ہوا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے تو شیطان آسمان پر بیٹھا کرتے تھے مگر پھر نہ بیٹھے۔حالانکہ حدیث سےمعلوم ہو تا ہے کہ ارواح ِ کافرہ بھی آسمان پر نہیں جا سکتیں۔پھر ہم کہتے ہیں رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جب شیطان اوپر بیٹھتا تھا تو اب کیوں نہیں بیٹھتا ؟کیا اﷲ تعالیٰ کو پہلے غیب کی حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔پھر وہ کو ن تھے جو خدا تعالیٰ کے غیب سن کر زمین پر آجایا کرتے تھے۔حالانکہ قرآن صاف طور پر ان معنوں کو رد کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ نہ آسمان پر کوئی جا سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کوغیب معلوم ہو سکتا ہے۔پھر ان معنوں کے لحاظ سے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ نعوذ با ﷲ خدا تعالیٰ کو بھی علم غیب نہیں تھا کیونکہ ایسی ہستیاں آسمان پر جا کر بیٹھتی تھیں جو غیب کی باتیں سن لیتی تھیں مگر خدا تعالیٰ کو ان کے بیٹھنے کا پتہ نہیں لگتا تھا۔اب اس نے پتہ لگانے کے لئے پہرہ دار مقرر کر دیئے ہیں۔در اصل ان آیات کے یہ معنی ہیں کہ آسمان روحانیت سے آنے والی پہلی کتابیں ایسی تھیں کہ جنہیں مخالف چھو سکتے۔یعنی انہیں بگاڑ دیتے تھے اور ان میں تبدیلیاں کر لیا کرتے تھے لیکن اب جو کتاب آئی ہے وہ ایسی ہے کہ اسے کوئی چھو نہیں سکتا۔یعنی اسے کوئی بگاڑ نہیں سکتا اور اس کی حفاظت کا خاص سامان کیا گیا ہے۔اور پہلے تو ہم لوگ یعنی ہم میں سے بعض لوگ کلام کو سن کر جس طرح چا ہتے تھے توڑ مروڑ کر بات سنا دیا کرتے تھے لیکن اب یہ دروازہ بھی بند ہو گیا ہے اور جو کتاب آئی ہے وہ ایسی ہے کہ کوئی بگاڑنے والا اسے چُھو نہیں سکتا۔بلکہ اگر