انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 609

۶۰۹ فضائل القرآن(نمبر ۳) ذرائع کیوں نہیں بتائے گئے۔چا ہئے تھا کہ فرشتے اس کے ساتھ اترتے۔یہ ان کے نقطہ نگاہ سے معقول اعتراض تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ا سکا جواب دیا۔اور فرمایا مَا نُنَزِّلُ الْمَلٓائِکَۃَ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَا کَانُوْا إِذًا مُّنظَرِیْنَ۷۰؂ فر شتے تو پیغامبرہوتے ہیں یا عذاب کی خبریں لاتے ہیں یا بشارت کی۔فرشتوں کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا کے کلام کی حفاظت کر سکیں۔فرشتوں کو تو کامل علم نہیں ہوتا۔وہ زیادہ سے زیادہ الفاظ کی حفاظت کر سکتے ہیں مطالب کی حفاظت نہیں کر سکتے۔حفاظت تو سوائے ہماری ذات کے اور کوئی کر ہی نہیں سکتا سو ہم بتاتے ہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَہم اس کی حفاظت کا فیصلہ کر چکے ہیں ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔اب تم اور آئندہ کفار زور لگا کر دیکھ لو تم کچھ نہیں کر سکتے اور آئندہ بھی کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔پھر فرمایا وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الأَوَّلِیْنَ۔وَمَا یَأْتِیْھم مِّنْ رَّسُوْلٍ إِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھزِؤنَ۔کَذَلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوبِ الْمُجْرِمِیْنَ۔لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَقَد خَلَتْ سُنَّۃُ الأَوَّلِیْنَ۔۷۱؂ یعنی ہنسی اور انکار تو پہلے انبیاء کا بھی ہو تا چلا آیا ہے۔لیکن پہلے انبیاء تو ا س کتاب کے متعلق جو ان پر نازل ہوتی تھی یہ نہیں کہتے تھے کہ وہ ہمیشہ محفوظ رہے گی۔پھر لوگ ان سے کیوں ہنسی کرتے رہے۔ان لوگوں کی غرض ہی یہ ہو تی ہے کہ خواہ مخواہ اعتراض کریں ورنہ جو کچھ یہ کہتے ہیں قطعاً معقول بات نہیں ہے۔یہ تو صرف جرم کا نتیجہ ہے جو ہر زمانہ میں ظاہر ہو تا رہتا ہے۔اب رہا اس کے محفوظ ہو نیکا ثبوت سو اس کے متعلق فرماتا ہے۔وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءٍ فَظَلُّوْا فِیْہٖ یَعْرُجُوْنَ۔لَقَالُوْا إِنَّمَا سُکِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۔وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّزَیَّنَّاھا لِلنَّاظِرِیْنَ۔وَحَفِظْنَاھا مِن کُلِّ شَیْطَانٍ رَّجِیْمٍ۔إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہٗ شِھابٌ مُّبِیْنٌ۷۲؂ فر مایا۔یہ بے وقوف لوگ اپنی ناواقفی سے کہتے ہیں کہ قرآن بھی لفظوں میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔جب ایسی ہی اور کتابیں بگڑ گئیں تو یہ کیوں نہیں بگڑ سکتی۔انہیں آسمانی سامان نظر نہیں آتے۔اگر ہم آسمانی دروازوں میں سے ایک بھی ان کے لئے کھولتے اور یہ آسمان پر چڑھ جاتے یعنی ان سامانوں سے آگاہ ہو تے جو اس کتاب کی حفاظت کے لئے کئے گئے ہیں تو یہ ایسی بے ہودہ بات نہ کرتے۔ایک راہ بھی اگر انہیں نظر آتی تو حیران رہ جاتے اور کہتے کہ ہماری