انوارالعلوم (جلد 11) — Page 605
انوار العلوم جلد 11 ۶۰۵ فضائل القرآن (۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَدِّمُوا لِاَنْفُسِكُمْ اس طرح آؤ کہ آگے نسل چلے اور یاد گار قائم رہے۔ پس تم اس تعلق کو بُرا نہ سمجھنا۔ اس آیت میں مندرجہ ذیل امور بیان کئے گئے ہیں۔ ا۔ نر و مادہ کے تعلق کی اجازت دی ہے لیکن ایک لطیف اشارہ ہے۔ یعنی عورت کو کھیتی کہہ کر بتایا کہ انسانی عمل محدود ہے۔ اسے غیر محدود بنانے کیلئے کیا کرنا چاہئے۔ یہی کہ نسل چلائی جائے۔ پس جس طرح زمین ہو تو اسے کاشتکار نہیں چھوڑتا۔ تم کیوں اس ذریعہ کو چھوڑتے ہو جس سے تم پھل حاصل کر سکتے ہو ۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو تمہارا پیج ضائع ہو گا۔ ۲۔ دوسری بات یہ بتائی کہ عورتوں سے اس قدر تعلق رکھو کہ نہ ان کی طاقت ضائع ہو اور نہ تمہاری۔ اگر کھیتی میں بیج زیادہ ڈال دیا جائے تو بیج خراب ہو جاتا ہے اور اگر کھیتی سے پے در پے کام لیا جائے تو کھیتی خراب ہو جاتی ہے۔ پس اس میں بتایا کہ یہ کام حد بندی کے اندر ہونا چاہئے۔ جس طرح عقلمند کسان سوچ سمجھ کر کھیتی سے کام لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس حد تک اس میں بیج ڈالنا چاہئے اور کسی حد تک کھیت سے فصل لینی چاہئے اسی طرح تمہیں کرنا چاہئے۔ اس آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہر حالت میں اولاد پیدا کرنا ہی ضروری ہے کسی صورت میں بھی برتھ کنٹرول جائز نہیں وہ غلط کہتے ہیں۔ کھیتی میں سے اگر ایک فصل کاٹ کر معا دو سری بو دی جائے تو دوسری فصل اچھی نہیں ہوگی اور تیسری اس سے ہے زیادہ خراب ہوگی۔ اسلام نے اولاد پیدا کرنے سے روکا نہیں بلکہ اس کا حکم دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی بتایا ہے کہ کھیتی کے متعلق خدا کے جس قانون کی پابندی کرتے ہو اس کو اولاد پیدا کرنے میں مد نظر رکھو۔ جس طرح ہوشیار زمیندار اس قدر زمین سے کام نہیں لیتا کہ وہ خراب اور بے طاقت ہو جائے یا اپنی ہی طاقت ضائع ہو جائے اور کھیت کاٹنے کی بھی توفیق نہ رہے یا کھیت خراب پیدا کرنے لگے۔ اسی طرح تمہیں بھی اپنی عورتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ اگر بچہ کی پرورش اچھی طرح نہ ہوتی ہو اور عورت کی صحت خطرہ میں پڑتی ہو تو اس وقت اولاد پیدا کرنے کے فعل کو روک دو۔ : تیسری بات یہ بتائی کہ عورتوں سے اچھا سلوک کرو تو اولاد پر اچھا اثر ہوگا۔ اور اگر ظالمانہ سلوک کرو گے تو اولاد بھی تم سے بے وفائی کرے گی۔ پس ضروری ہے کہ تم عورتوں سے ایسا سلوک کرو کہ اولاد اچھی ہو۔ اگر بد سلوکی سے کھیت خراب ہوا تو دانہ بھی خراب