انوارالعلوم (جلد 11) — Page 606
۶۰۷ فضائل القرآن(نمبر ۳) لیکن قرآن کریم نے اسے کتنا علمی بنا دیا۔باقی کتب میں اس کا ذکر بھی نہ ہو گا۔پس ہمارا یہی دعویٰ نہیں کہ قرآن میں ایسی باتیں ہیں جو اور کسی مذہبی کتاب میں نہیں بلکہ یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی ایسی بات نہیں جو دوسرے مذاہب کی الہامی کتابوں سے افضل نہ ہو۔خواہ وہ کھانے پینے کے متعلق ہوں خواہ وہ لین دین کے متعلق ہو خواہ اور معاملات کے متعلق ہو۔اس کے لئے ہم چیلنج دے سکتے ہیں کہ کوئی عیسائی یا ہندو یا کسی اور مذہب کا پیرو کھڑا ہو اور کسی مسئلہ کا نام لے کر کہے کہ اسے قرآن سے افضل ثابت کرو تو یقیناً ہم اسے افضل ثابت کر دیں گے۔انشاء اﷲ تعالیٰ پس قرآن کریم بعض باتوں میں ہی افضل نہیں بلکہ ہر بات میں افضل ہے۔حتیٰ کہ قرآن زبان کے لحاظ سے بھی افضل ہے۔لیکن بوجہ ا س کے کہ تفصیلات سے صرف جزئیات کا علم حاصل ہو تا ہے میں اب اصول کی طر ف آتا ہوں۔میں نے پچھلے سال سالانہ جلسہ پر قرآن کریم کی فضیلت کے چھ اصول بتائے تھے۔اورثابت کیا تھا کہ ان میں سے ہر امر میں قرآن کریم دوسری کتب سے افضل ہے۔وہ چھ اصول یہ تھے۔اوّل۔جس کا منبع افضل ہو۔دوم۔ظاہری حسن۔سوم۔وہ اس غرض کو پورا کرے جس کے لئے ا س کی ضرورت سمجھی گئی ہو۔چہارم۔اس کا فائدہ دوسروں سے زائد ہو۔پنجم۔جس میں ملاوٹ نہ ہو۔ششم۔وہ چیز اپنی ہو۔اب میں چند اور فضیلت کے اصول بیان کر کے بتاتا ہوں کہ قرآن کریم وجہ فضیلت کے لحاظ سے دوسری تمام الہامی اور غیر الہامی تعلیمات سے افضل ہے۔قرآنی فضلیت کی ساتویں وجہ ساتویں وجہ فضلیت کی یہ ہوا کرتی ہے کہ کوئی چیز اپنی جنس کی چیزوں کی نسبت ٹوٹ پھو ٹ سے زیادہ محفوظ ہو۔جب ہم کپڑا خریدتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کونسا کپڑا زیادہ چلے گا۔جو جلد پھٹ جانے والا ہو وہ نہیں لیتے بلکہ جو زیادہ دیر چلنے ولا ہو وہ لیتے ہیں۔یہی حال اور چیزوں کا ہو تا ہے۔زیادہ چلنی والی چیز خریدی جاتی ہے اور کم چلنے والی چیز چھوڑ دی جاتی ہے۔تعلیمات کے متعلق بھی یہ سوال لازماً ہوتا ہے۔اگر دو تعلیمیں برابر ہوں لیکن ایک بگڑنے سے محفوظ ہو تو اسے یقیناً تقدّم حاصل ہو گا۔اس اصل کے ماتحت ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ یہ ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ ہے یا دوسری کتابیں۔الہامی کتابوں میں ٹوٹ پھوٹ نہ ہو نے کے کیا معنی ہو تے ہیں یہی کہ الہامی