انوارالعلوم (جلد 11) — Page 600
۶۰۰ فضائل القرآن(نمبر ۳) کے اندر پیدا کیا تھا اور اس طرح اپنی طرف بلایا تھا ایک ایسی صورت کی جاتی کہ اضطراب اپنے اصل رستہ سے ہٹ جانے کا موجب نہ ہوتا۔اور طاقت کے بقیہ حصہ کو استعمال بھی کر لیا جاتا جس کے لئے مرد و عورت کے تعلقات کو رکھا گیا ہے۔اور مرد کو عورت کے لئے اور عورت کو مرد کے لئے موجب سکون بنادیا۔حضرت خلیفہ اول کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔آپ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے بیماری کی حالت میں روزہ رکھ لیا تو اس سے شہوانی طاقت کو بہت ضعف پہنچ گیا۔بیسیوں لوگوں کو میرے علاج سے فائدہ ہوتا تھا مگر مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔آخر میں نے سوچا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر شروع کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے کثرت سے تسبیح و تحمید کی تو شفا ہوگئی۔پس یہ بہت باریک تعلقات ہیں جنہیں ہر ایک انسان نہیں سمجھ سکتا۔روحانیت میں بھی رجولیت اور نسائیت کی صفات یہ سلسلہ کہ ہر ایک چیز کو اﷲ تعالیٰ نے جوڑوں میں پیدا کیا ہے تاکہ غفلت میں کمال ، غلط اطمینان کا باعث ہوکر باعثِ تباہی نہ ہو اور تاکہ ہر ایک چیز اپنی ذات میں کامل نہ ہو اور اس کامل وجود کی طرف اس کی توجہ رہے جس سے کمال حاصل ہوتا ہے۔یہ ظاہری حالات کے علاوہ روحانیات میں بھی چلتا ہے۔اور اس سے بھی اس ظاہری سلسلہ کی حقیقت کھل جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر کافر پر ابتداءً رجولیّتِ ایمان کی حالت غالب ہوتی ہے اور ہر مومن پر رجولیّت کفر کی حالت غالب ہوتی ہے۔مثلاً جب کوئی شخص جاہل ہوگا تو جہالت کی وجہ سے اس کے دل میں تڑپ پیدا ہوگی اور وہ علم حاصل کرے گا۔لیکن جب کوئی علم حاصل کرلے گا تو اسے اطمینان حاصل ہوجائے گا کہ علم حاصل کر لیا۔ہر جگہ یہی بات چلتی ہے۔قرآن کریم میں مومن کی مثال فرعون کی بیوی سے دی گئی ہے۔کیونکہ ابتداء میں مومن پر کفر غلبہ کرنا چاہتا ہے لیکن آخر کفر مغلوب ہوجاتا ہے۔اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ ہر انسان کا ایک گھر جنت میں ہوتا ہے اور ایک دوزخ میں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ واقعہ میں ہر انسان کا ایک گھر جنت میں اور ایک دوزخ میں ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں دونوں قسم کی طاقتیں ہوتی ہیں۔کفر کی طرف کفر والی کھینچتی ہے اور ایمان کی طرف ایمان والی طاقت۔اور انسان ایک یا دوسری کی طرف پھر جاتا ہے۔درحقیقت قرآن اصطلاح میں رجولیت چیکنگ پاور کا نام ہے اور