انوارالعلوم (جلد 11) — Page 574
۵۷۴ فضائل القرآن(نمبر ۳) تقسیم نہ کردو اور دوسرے یہ کہ اس طرح تقسیم کرو کہ جسے دو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکے۔جو ایسا نہ کرے اس کے متعلق فرمایا۔اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا ایسا انسا ن شیطان کا بھائی ہے اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔اس طرح مال تقسیم کرنے سے کسی کو فائدہ نہ ہوگا، اور ناشکری پیدا کرے گا۔اخوان الشیاطین کہنے میں حکمت یہاں اﷲ تعالیٰ نے شیطان نہیں کہا بلکہ شیطان کا بھائی کہا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ دینے والے نے تو اپنی طرف سے اچھی بات ہی سمجھی تھی کہ ایک کی بجائے بہتوں کو دے دیا۔لیکن حقیقتاً اس کا یہ فعل اچھا نہ تھا۔اس لئے اس کا یہ فعل حقیقی ناشکری تو نہیں لیکن اس کے مشابہ ضرور ہے۔پھر تھوڑی چیز کو بہتوں میں اس طرح بانٹ دینے کو کہ کسی کے بھی کام نہ آئے اﷲ تعالیٰ نے ناشکری قرار دینے کی یہ وجہ بتائی کہ ہم نے جو نعمت دی تھی وہ کسی غرض کے لئے ہی دی تھی مگر تم نے اس کو بے فائدہ طور پر بانٹ دیا اور اس طرح اس غرض کو باطل کردیا۔وہ غرض یہی ہے کہ مال قابلیت رکھنے والوں کے پاس آتا ہے اور قابلیت رکھنے والوں کو کام کرنے کے قابل بنائے رکھنا قوم کے لئے ضروری ہوتا ہے۔اگر ایک اعلیٰ درجہ کا کاریگر ہو اور وہ اپنے اوزار دوسروں میں بانٹ دے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا اپنا کام بھی نہ چلے گا اور دوسروں کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن اگر وہ اپنے اوزار اپنے پاس رکھ کر ان سے کام کرے اور پھر جو کچھ کمائے اس میں سے دوسروں کی مدد کرے تو یہ بہت مفید بات ہوگی۔صدقہ دینے کا صحیح طریق پھر اسلام نے صدقہ دینے کا طریق بتایا ہے۔جو یہ ہے کہ اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ سِرًّا وَّ عَلانِیَۃً ۲۰یعنی مومن وہ ہیں جو اپنے اموال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر اﷲ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔اس آیت میں یہ احکام بیان کئے گئے کہ اول پوشیدہ صدقہ دو۔دوم علانیہ صدقہ دو۔یہاں مال کے طریق تقسیم میں انجیل کی تعلیم کا مقابلہ ہوگیا۔انجیل میں تو یہ کہا گیا ہے کہ ’’جب تو خیرات کرے تو جو تیرا داہنا ہاتھ کرتا ہے اسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے تاکہ تیری خیرات پوشیدہ رہے۔‘‘