انوارالعلوم (جلد 11) — Page 575
۵۷۵ فضائل القرآن(نمبر ۳) لیکن قرآن کہتا ہے کہ کبھی اس طرح صدقہ دو کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں کو پتہ نہ لگے اور کبھی اس طرح دو کہ سب کو پتہ لگے اور اس کی وجہ بتائی کہ کیوں ہم یہ کہتے ہیں کہ ظاہر طور پر بھی صدقہ دو اور پوشیدہ طور پر بھی۔فرمایا اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ وَ اِنْ تُخْفُوْھَا وَ تُؤْتُؤْھَا الْفُقَرَآءَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ یُکَفِّرْ عَنْکُمْ مِنْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۲۱یعنی اگر تم صدقہ دکھا کر دو تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔لیکن وَ اِنْ تُخْفُوْھَا وَ تُؤْتُؤْھَا الْفُقَرَآءَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ اگر تم چھپا کر دو تو یہ تمہارے اپنے لئے بہتر ہے۔گویا دوسرے طریق صدقہ میں پہلے طریق کی بھی وجہ بتادی۔کیونکہ جب یہ بتایا کہ پوشیدہ طور پر صدقہ دو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا تو یہ بھی فرما دیا کہ اگر ظاہری طور پر صدقہ دو گے تو یہ دوسروں کے لئے بہتر ہوگا۔کیونکہ جب لوگ کسی کو صدقہ دیتے دیکھیں گے تو کہیں گے یہ بڑا اچھا کام ہے اور پھر وہ خود بھی اس کی نقل کرنے لگ جائیں گے۔دیکھو جو لوگ یورپ کے دلدادہ ہیں وہ سر سے پیر تک وہی لباس پہنچتے ہیں جو یورپین لوگوں کا ہے۔ایک زمانہ میں جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو ہندو بھی مسلمانوں کی طرح جبے پہنے پھرتے تھے۔اب بھی جن علاقوں میں مسلمانوں کی کثرت ہے وہاں کے ہندوؤں کا لباس مسلمانوں جیسا ہی ہوتا ہے۔جیسا کہ سرحد میں یا سندھ میں ہے۔ایک دفعہ ایک سندھی تاجر ہمارا ہم سفر تھا۔اس نے بالکل مسلمانوں جیسا لباس پہنا ہوا تھا۔میں اسے مسلمان ہی سمجھتا رہا۔جب کھانا کھانے لگے تو ہمارے نانا جان بھی ساتھ تھے۔انہوں نے اس تاجر کو کہا کہ آیئے آپ بھی کھانا کھائیں۔مگر اس نے نہ کھایا۔جب وہ اترنے لگا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے مگر دوسرے لوگ برا مناتے ہیں۔تب پتہ لگا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ ہندو تھا۔تو دوسروں کو دیکھ کر انسان ان کی باتیں اختیار کر لیتا ہے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۲۲تم میں سے ہر ایک کی مثال گڈریا کی سی ہے۔ہر ایک کے ساتھ کچھ نہ کچھ بھیڑیں لگی ہوئی ہیں جو اس کی نقل کرتی ہیں۔پس اگر کوئی ظاہر طور پر صدقہ دے گا تو اس کے بیٹے ، بھائی یا دوسرے رشتہ دار، مرید، ملازم دوست اور آشنا بھی اس کی نقل میں صدقہ دیں گے۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آئندہ نسل کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔بچوں کو صدقہ دینے کی