انوارالعلوم (جلد 11) — Page 559
۵۵۹ فضائل القرآن(نمبر ۳) گاندھی جی تو وصولیوں کی بات کہہ رہے تھے اور سارا ہندوستان ان کی آواز پر کہتا جاتا ہے ’’ہم ری ہم ‘‘ لیکن حضرت مرزا صاحب نے جو کچھ کہا اس پر اپنے پاس سے دینا پڑتا ہے۔اس لئے اس آواز پر لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ’’ ارے ہم ہی بولیں یا کوئی اور بھی بولے گا‘‘۔کہا گیا ہے کہ گاندھی جی کے کارنامے دنیا کو ان کی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور حکومت ان کے نام سے کانپ رہی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت گاندھی جی سے نہیں بلکہ ہندوستان سے کانپ رہی ہے۔وہ یہ دیکھ رہی ہے کہ ۳۳ کروڑ کی آبادی پر چند لاکھ افراد کی حکومت کس قدر مشکل ہے۔انگریز اس بات سے ڈ ر رہا ہے نہ کہ گاندھی جی سے۔سفارشات سوالات کے جواب دینے کے بعد اب ایک تو میں سفارش بچوں کے متعلق کرتا ہوں۔جامعہ احمدیہ اور ہائی سکول کے طلباء نے اپنے اپنے رسالوں کے سالنامے نکالے ہیں۔چونکہ ملک میں رسالوں کے سالنامے نکالنے کا مرض پیدا ہو چکا ہے اس لئے بچے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان کے پرچوں کی خریداری کے متعلق سفارش کروں۔جب یہ رسالے جاری کرنے لگے تھے تو میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر سکول اور جامعہ ان کو چلائے تو شوق سے نکالو لیکن اگر کہو کہ جماعت میں ان کے متعلق تحریک کی جائے تو یہ خواہش نہ کرنا۔لیکن اب چونکہ یہ پٹھان والی بات ہوگئی ہے کہ اس کا بچہ اپنے استاد پر تلوار سے وار کرنے لگا۔تو اس نے کہا کہ اس کا پہلا وار ہے کر لینے دو۔اس لئے گو اس سے ہماری ہی جیبوں پر اثر پڑتا ہے لیکن چونکہ یہ ہمارے بچوں کا پہلا وار ہے اسلئے میں یہ سفارش کرتا ہوں کہ ان کے رسالے خریدے جائیں۔ایک تو اس لئے کہ یہ لڑکے پہلے وار کی وجہ سے اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے وار کی قدر کی جائے۔دوسرے انہوں نے ایک رنگ میں احسان بھی جتایا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم جلسہ کے کاموں میں لگے رہے اور رسالے نہ بیچ سکے۔اب تو گویا ایک وجہ بھی ان کے ہاتھ آگئی ہے۔دوست ان کے رسالے خرید کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔اب میں ان باتوں میں سے دو چار اختصار کے ساتھ بیان کر تا ہوں جو کل بیان کیں تھیں۔احمدی تاجر وں کے ساتھ ہر رنگ میں تعاون کی ضرورت میں نے بیان کیا تھا کہ مومن کے لئے دینی اور دنیوی طور پر ہر قسم کی آگ سے بچنا نہایت ضروری ہے۔لیکن چونکہ وقت کم تھا میں نے