انوارالعلوم (جلد 11) — Page 560
۵۶۰ فضائل القرآن(نمبر ۳) اس آگ سے بچنے کے صرف اصول بیان کر دیئے تھے تفصیل چھوڑ دی تھی۔اب میں ان میں سے ایک بات کی طرف جماعت کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔دنیا میں بہت سے کام جو انفرادی طور پر نہیں ہوسکتے باہمی تعاون سے ہوسکتے ہیں۔ہم نے دنیا میں جو عظیم الشان کام کرنے ہیں ان کے متعلق جب تک ہم ہر رنگ میں جماعت کی نگرانی نہ کریں وہ صحیح طور پر سر انجام نہیں دیئے جاسکتے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان قیدیوں کا جو جنگ بد رمیں گرفتار ہو کر آئے تھے یہ فدیہ مقرر فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم دیں۔وہ لوگ کوئی دینی تعلیم نہ دے سکتے تھے بلکہ صرف مروجہ علوم ہی سکھا سکتے تھے مگر رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کابھی انتظام فرمایا۔اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم بھی ضروری سمجھی۔ہمیں بھی دین کے ساتھ جماعت کی دنیوی ترقی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ہاں دین کو دنیا پر مقدم کرنا چاہیے اور جہاں دنیادین میں روک ثابت ہو وہاں اسے ترک کر دیناچاہیے۔دنیوی ترقی کے لیے بہترین چیز تعاون ہے۔یورپ کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا اور ترقی حاصل کر لی۔لیکن مسلمان آپس میں لڑتے جھگڑتے رہے۔جب سارا یورپ اکٹھا ہو کر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تو مسلمان اس وقت بھی آپس میں لڑ رہے تھے۔اس وقت عیسائیوں سے باطنی حکومت نے یہ سازش کی کہ ہم سلطان صلاح الدین کو قتل کر دیتے ہیں تم باہر سے مسلمانوں پر حملہ کردو۔اس کا جو نتیجہ ہوا و ہ ظاہر ہے۔پس تعاو ن سے جو نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں وہ کسی اور طرح حاصل نہیں ہو سکتے۔اسی طریق سے ہماری جماعت بھی ترقی کر سکتی ہے اور اس کے لئے بہترین صورت تاجروں کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔بے شک زمیندار بھی مالدار ہو سکتے ہیں لیکن بڑے بڑے مالدار مل کر بھی غیر ملکوں پر قبضہ نہیں کرسکتے۔اس کے مقابلہ میں تجارت سے غیر ممالک کی دولت پر بھی قبضہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ تجارت دور دور تک پھیل سکتی ہے اس لئے تاجروں کی امداد نہایت ضروری چیز ہے۔اس کے لئے سر دست میری یہ تجویز ہے کہ کوئی ایک چیز لے لی جائے اور اس کے متعلق یہ فیصلہ کر لیاجائے کہ ہم نے وہ چیز صرف احمدی تاجروں سے ہی خریدنی ہے کسی اور سے نہیں۔اس طرح ایک سال میں اس چیز کی تجارت میں ترقی ہو سکتی ہے۔اور دوسرے تاجروں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔مثلاً سیالکوٹ کا سپورٹس کا کام ہے۔یہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ باہر انگلستان آسٹریا اور جرمنی وغیر میں بھی جاتا ہے۔اور یہ ایسی انڈسٹری ہے جس سے دوسرے ملکوں کا روپیہ کھینچا جا