انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 558

۵۵۸ فضائل القرآن(نمبر ۳) نے چاہِ زم زم میں پیشاب کر دیا۔لوگوں نے اسے پکڑ کر خوب مارا۔اس نے کہا خواہ کچھ کر ومیری جو غرض تھی وہ پوری ہوگئی ہے۔اس سے جب پوچھا گیا کہ تمہاری کیا غرض تھی ؟ تو اس نے کہا مجھے شہرت کی خواہش تھی۔یہاں چونکہ ساری دنیا کے لوگ آئے ہوئے تھے اس لئے جب میری اس حرکت کا علم سب کو ہوگا تو خواہ وہ مجھے گالیاں دیں لیکن جہاں جہاں بھی جائیں گے اس بات کا ذکر کریں گے اور اس طرح ساری دنیا میں میری شہرت ہو جائے گی۔غرض نام اس طرح بھی پھیل جاتا ہے لیکن حقیقی نام وہ ہوتا ہے جو دنیا کی مخالفت کے باوجود پیدا کیا جائے۔گاندھی جی نے کھڑے ہو کر کیا کہا ؟وہی جو ہر ہندوستانی کہتا تھا۔قدرتی طور پر ہر ہندوستانی یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کا ملک آزاد ہو۔یہی گاندھی جی نے کہا۔لیکن حضرت مرزا صاحب وہ منوانا چاہتے تھے جسے دنیا چھوڑ چکی تھی اور جس کا نام بھی لینا نہیں چاہتی تھی۔گاندھی جی کی مثال تو اس تیراک کی سی ہے جو ادھر ہی تیرتا جائے جد ھر دریا کا بہاؤ ہو۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال اس تیراک کی سی ہے جو دریا کے بہاؤ کے مخالف تیر رہا ہو۔اس وجہ سے آپ کا ایک میل تیرنا بھی بہاؤ کی طرف پچاس میل تیرنے والے سے بڑھ کرہے۔دنیا الہام کی منکر ہو چکی تھی۔حضرت مرزا صاحب اسے یہ مسئلہ منوانا چاہتے تھے۔دنیا مذہب کو چھوڑ چکی تھی۔آپ مذہب کی پابندی کرانے کے لئے آئے۔پھر آپ کا اور گاندھی جی کا کیا مقابلہ۔ابھی دیکھ لو۔میرے مضامین چونکہ عام لوگوں کی خواہشات کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے دوسرے اخبارات میں نہیں چھپتے۔لیکن ابھی میں انگریزوں کے خلاف وہی روش اختیار کر لوں جو دوسرے لوگوں نے اختیار کر رکھی ہے تو تمام اخبارات میں شور مچ جائے گا کہ خلیفہ صاحب نے یہ بات کہی ہے جو بڑے عقلمند اور محب وطن ہیں۔لیکن چونکہ ان کے منشاء کے مطابق اور ان کی خواہشات کے ماتحت ہمارے مضامین نہیں ہوتے اس لئے خواہ ان میں کیسی ہی پختہ اور مدلّل باتیں ہوں انہیں شائع نہیں کرتے۔سوال کرنے والے دوست نے شاید اس پوربی عورت کا قصہ نہیں سنا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب اس کا خاوند مر گیا تو وہ یہ کہہ کر رونے لگی کہ اس کا اتنا قرضہ فلاں فلاں کے ذمہ ہے وہ کون وصول کرے گا۔اس کے رشتہ کے مردوں میں سے ایک نے اکڑ کر کہا اری ہم ری ہم۔اسی طرح وہ صولیاں گناتی گئی اور وہ کہتا چلا گیا۔’’اری ہم ری ہم‘‘۔لیکن جب اس نے کہا کہ اس نے فلاں کا اتنا قرض دینا ہے وہ کون دے گا تو کہنے لگا ’’ارے میں ہی بولتا جاؤں یا کوئی اور بھی بولے گا‘‘ اسی طرح