انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 557

۵۵۷ فضائل القرآن(نمبر ۳) ہے اس لئے اس کی زندگی میں ہی خدا تعالیٰ حکومت دے دیتا ہے۔اور غیر شرعی نبی نے چونکہ کسی ایسے حکم پر عمل نہیں کرانا ہوتا جس پر پہلے عمل نہ ہو چکا ہو اس لئے اس کے زمانہ میں خدا تعالیٰ قلوب کی فتح رکھتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی خدا تعالیٰ نے یہی فتح عطا کی ہے۔علی ؓ اور خالد ؓ کے مثیل چوتھا سوال یہ کیا گیا ہے کہ چالیس پچاس سال کے عرصہ میں احمدیت کیوں ایک بھی علی ؓ یا خالد ؓ پیدا نہ کرسکی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ احمدیہ جماعت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جماعت کی مثیل ہے۔اور یہ وہی کام کرنے آئی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت نے کیا۔اس لئے اس میں خالدؓ اور علیؓ کی مثال تلاش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ شرعی نبی کے ماننے والے تھے۔شریعت کے مغز کو جاری کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آئے۔اور اس کے لئے نفس کی قربانی کی ضرورت تھی جس میں جماعت احمدیہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہوگئی ہے۔پس ہم سے اگر کوئی مطالبہ ہو سکتا ہے تو یہ کہ چالیس سال میں کتنے پطرس پیدا کئے؟ اس کے جواب میں ہم یقینا کہہ سکتے ہیں کہ پطرس کیا ان سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں پیدا ہوئے۔پطرس تو جب پکڑا گیا اس نے صاف کہہ دیا کہ میں مسیح کو جانتابھی نہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک ماننے والا جب پکڑا گیا تو اس نے پتھروں کی بوچھاڑ کے نیچے جان دے دی لیکن ایمان ہاتھ سے نہ دیا۔پھر ہم تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں ایسے لوگ پیش کر سکتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح ؑ کی طرح قربانیاں کیں۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صداقت نہ چھوڑی اور صلیب پر چڑھنا گوارا کرلیا۔اسی طرح ہماری جماعت کے پانچ آدمیوں نے کابل میں صداقت کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں جیسے افراد پیدا نہیں کئے بلکہ ایسے افراد پیدا کئے جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام جیسی قربانی کے نظارے دکھائے۔احمدیت کا پیغام ابھی تک ساری دنیا میں نہیں پہنچا پانچواں سوال یہ کیا گیا ہے کہ حضرت مزرا صاحب کے بعد خلیفہ اول کا زمانہ بھی گذر گیا۔اب خلیفہ دوم کا زمانہ ہے مگر ابھی تک ساری دنیا میں مرزا صاحب کا نام نہیں پہنچا لیکن گاندھی جی کا پہنچ گیاہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ نام پھیلنے میں حقیقی عظمت نہیں ہوتی۔مشہور ہے کہ کسی شخص