انوارالعلوم (جلد 11) — Page 556
انوار العلوم جلد )) ۵۵۶ فضائل القرآن (۳) ہے۔ میں اس کا بھی قائل نہیں ہوں۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ مومن کسی کا غلام نہیں ہوتا۔ بھلا اس شخص کو کون غلام کہہ سکتا ہے جو یہ دعوی کرتا ہو کہ دنیا کی ساری حکومتیں اور بادشاہتیں بھی اسلام کے خلاف کچھ منوائیں گی تو میں نہیں مانوں گا وہ غلام کس طرح کہلا سکتا ہے۔ اور جو شخص یہ کہے کہ میں بڑی سے بڑی طاقت کی اسلام کے خلاف بات مان لوں گا وہ احمدی نہیں۔ پس کوئی احمدی غلام نہیں بلکہ ہر احمدی آزاد ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم پر عمل عیسائیوں کو کیوں حکومت ملی ؟ نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کی حکومتیں چھن گئیں۔ ملی؟ لیکن عیسائی بھی حضرت مسیح کی کتاب کے خلاف عمل کرتے ہیں پھر ان کو کیوں حکومتیں ملی ہوئی ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سزا اُسی کو دی جاتی ہے جو خزانہ کا محافظ ہو کر غفلت اور سستی کرتا ہے۔ عیسائی روحانی خزانہ کے محافظ نہ تھے۔ رسول کریم میم کے آنے کے بعد عیسائی اس خزانہ کی محافظت سے برخاست کر دیئے گئے۔ اور رسول کریم میں تعلیم کو قبول کرنے کی وجہ سے یہ محافظت مسلمانوں کے سپرد ہو چکی تھی۔ اب وہ غفلت کریں تو ان کو سزادی جائیگی عیسائیوں کو نہیں۔ تیسرا سوال یہ ہے مسیح موعود کی بعثت سے مسلمانوں کو کیا طاقت حاصل ہوئی؟ کہ اگر مسلمانوں کے بُرے افعال کے نتیجہ میں مسلمانوں سے حکومت اور شوکت چھن گئی تو مسیح موعود نے آکر مسلمانوں کو کیا شوکت دی۔ ان کے دعوی پر چالیس سال کے قریب گزر چکے ہیں مگر انہوں نے کوئی حکومت نہ دلائی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حکومت اس لئے نہ ملی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کئی اور انبیاء کے زمانہ میں بھی حکومت نہیں ملی تھی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد تین سو سال تک ان کے ماننے والوں میں حکومت نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شرعی نبی ہوتے ہیں اور ایک غیر شرعی۔ شرعی نبی نے چونکہ شریعت کے اد احکام پر جوا جو اُسے دیئے جاتے ہیں عمل کرانا ہوتا ہے اس لئے اس اس کی کی زند زندگی میں ہی خدا تعالی حکومت دے دیتا ہے۔ اور غیر شرعی نبی نے چونکہ کسی ایسے حکم پر عمل نہیں کرانا ہوتا