انوارالعلوم (جلد 11) — Page 539
۵۳۹ بعض اہم اور ضروری امور طرح آپس کا بعد دور ہوتا جائے گا- باقی جو دلائل کا کام ہے وہ کریں گے- کتاب میری کتاب ‘’ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل’‘ اردو، انگریزی میں شائع ہو چکی ہے- اس کے لئے کچھ چندہ کیا گیا تھا مگر خرچ اندازہ سے زیادہ ہو گیا ہے- اس لئے کچھ قرضہ باقی ہے اسے جلد ادا کرنا ضروری ہے- اور وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ کتاب فروخت ہو جائے- میں احباب سے خواہش کرتا ہوں کہ شہروں میں رہنے والے اصحاب انگریزی ایڈیشن کے کئی کئی نسخے خرید لیں اور انگریزی خوانوں میں فروخت کریں اسی طرح اردو ایڈیشن کی اشاعت بھی کی جائے- مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ کتاب کثر ت سے شائع ہو مگر مفت نہیں بلکہ فروخت کی جائے یہ کتاب علیحدہ خرچ سے چھپوا کر دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں رکھوا دی گئی ہے تا کہ اس کی آمد سے قرضہ ادا ہو سکے اور صدر انجمن احمدیہ پر بوجھ نہ پڑے- انگریزی اخبار سن رائز اسی سال میں نے اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزی اخبار سن رائز کو ہفتہ وار کر دیا ہے- عام طور پر میری عادت ہے کہ میں مجلس شوریٰ کے مشورہ کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کرتا لیکن حالات فوری طور پر ایسے پیدا ہو گئے تھے کہ سن رائز کو ہفتہ وار کرنا پڑا- میں احباب سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ اس کی اشاعت بڑھانے کے لئے کوشش کریں- اس کے ایڈیٹر ملک غلام فرید صاحب ہیں تو نوجوان مگر ان میں کام کرنیکی قابلیت ہے- اگر احباب مدد کریں تو صحیح سیاسی خیالات پھیلانے میں مفید کام کر سکتے ہیں- مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریروں کا جواب اس سال جب میں شملہ جانے لگا تو مجھے معلوم ہوا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل تفسیر نویسی کے متعلق ایک مضمون شائع کیا ہے- روانگی کے وقت وہ مضمون مجھے ملا- شملہ میں چونکہ اور بہت کام تھا اس لئے میں اس مضمون کی طرف توجہ نہ کر سکا- دوسرے یہ بھی خیال تھا کہ پہلے حوالے دیکھ کر جواب لکھوں- آخر میں نے میاں غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل سے حوالے منگوائے لیکن اتنے میں ولایت سے خطوط آئے کہ جس طرح نہرو رپورٹ پر تبصرہ کیا گیا تھا اسی طرح اگر سائمن رپورٹ پر بھی تبصرہ لکھا جائے تو بہت مفید ہو