انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 536

انوار العلوم جلد ۵۳۶ بعض اہم اور ضروری امور سال سے مطالبہ ہو رہا تھا۔ کئی دوستوں نے بتایا کہ "عشرہ کاملہ " میں ایسا مواد ہے کہ جس کا جواب ضروری ہے۔ اب خدا کے فضل سے اس کے جواب میں اعلیٰ لٹریچر تیار ہوا ہے۔ دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کی اشاعت کرنی چاہئے۔ گذشته جلسہ سالانہ پر ایک چیز کا میں نے وعدہ کیا تھا اور وہ قرآن کریم کی اردو تفسیر القرآن تغیر تھی۔ یہ تفسیر چار سو صفحہ تک چھپ چکی ہے اور اس سے زیادہ کا مسودہ سے تیار ہو چکا ہے۔ یہ درس کے نوٹ ہیں اور چونکہ نظر ثانی کرتے وقت مجھے بہت کچھ لکھنا پڑتا ہے اس لئے اس کی اشاعت میں دیر ہو گئی اور جولائی کے بعد اور اہم وقتی کاموں کی وجہ سے میں یہ کام نہ کر سکا۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی نے صحت اور توفیق بخشی تو چند ماہ تک یہ کتاب تیار ہو جائے گی۔ انگریزی ترجمہ قرآن کی نظر ثانی بھی بہت کچھ ہو چکی ہے۔ تھوڑا سا حصہ باقی ہے وہ مارچ تک امید ہے ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد حضور نے غیر مبائعین کے فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے غیر مبالغین کی کذب بیانی بتایا کہ یہ لوگ جھوٹ اور غلط بیانی میں کس طرح حدت گزر چکے ہیں۔ اور اس بات پر اظہار تعجب و افسوس فرمایا کہ ایسے ایسے جھوٹ دیکھ کر ان لوگوں کے دل میں کیوں درد نہیں پیدا ہو تا جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ تعلیم دی کہ کسی حالت میں خفیف سے خفیف جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہئے۔ حضور نے ان لوگوں کے حد سے بڑھے ہوئے جھوٹ کی مثال میں ۳۰ ستمبر کے پیغام کا ایک مضمون پڑھ کر سنایا۔ جس میں لکھا ہے کہ خلیفہ قادیان کو اپنے بعد کی خلافت کی فکر ابھی سے دامن گیر ہے اور اس منصب جلیلہ کے لئے اپنے لخت جگر میاں ناصر احمد کے نام قرعہ فال نکالا ہے۔ اس انتخاب کے بعد ولی عهد خلافت پرنس آف ویلز کی طرح دورہ پر نکلے۔ تمام قادیانی جماعتوں کو اپنے دیدار فیض آثار سے آنکھوں کا نور اور دل کا سرور عطا فرمایا۔ ہدیے نذرانے اور تحائف وصول کر کے کامیابی سے قادیان واپس تشریف فرما ہوئے۔ اس کامیاب دورہ کا اندازہ لگانے کے بعد کہ مریدوں نے میاں ناصر کو سر آنکھوں پر قبول کیا۔ اخباروں ، پوسٹروں، اشتہاروں اور خطوط وغیرہ کی پیشانیوں کو هُوَ النَّاصِرُ کے فقرہ سے مزین کیا جانے لگا اور یوں ایک رنگ میں اعلان کیا گیا کہ ہونے والا خلیفہ ناصر میاں ہے۔ تمام حاضرین نے لَعْنَتُ اللهِ