انوارالعلوم (جلد 11) — Page 519
۵۱۹ فرستادہ جماعت کا درماندہ جماعت سے علیحدہ کیا جانا ضروری تھا- جس طرح بیمار سے پرہیز نہ ہو تو تندرست بھی ساتھ گرفتار ہو جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ روحانی بیماروں سے فرستادہ جماعت کو علیحدہ رکھے اسی لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جنازہ، شادی، نماز وغیرہ ہو کیونکہ اکثر عورتیں ہی اس میں اختلاف کرتی ہیں- اس لئے میں عورتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح مریض کے ساتھ تندرست کی زندگی خطرہ میں پڑ جاتی ہے یاد رکھو یہی حالت تمہاری غیر احمدیوں سے تعلق رکھنے میں ہو گی- اکثر عورتیں کہتی ہیں کہ بہن یا بھائی کا رشتہ ہوا چھوڑا کس طرح جائے- میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر زلزلہ آ جائے یا آگ لگ جائے تو ایک بہن بھائی کی پروا نہ کر کے بلکہ اس کو پیچھے دھکیل کر خود اس گرتی ہوئی چھت سے جلدی نکل بھاگنے کی کوشش کرے گی تو پھر دین کے معاملہ میں کیوں یہ خیال کیا جاتا ہے؟ دراصل یہ آرام کے وقت کے جذبات ہیں مصیبت کے وقت کے نہیں- اگر خدا رات کو تم میں سے کسی کے پاس فرشتہ ملک الموت بھیجے جو کہے کہ حکم تو تیرے بھائی یا دوسرے عزیز کی جان نکالنے کا ہے- مگر خیر میں اس کے بدلے تیری جان لیتا ہوں تو کوئی عورت بھی اس کو قبول نہ کرے گی- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے-یا ایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا-۳؎ یعنی بچاؤ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جانوں کو آگ سے- اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیرو اگر دوسرے غیراحمدی سے بیاہی گئی تو خاوند کی وجہ سے یقیناً وہ احمدیت سے دور ہو جائے گی یا کڑھ کڑھ کر مر جائے گی- اپنے رشتہ داروں سے الگ کی جائے گی بوجہ تعصب مذہبی کے- تو یہ ایک آگ ہے- کیا وہ خود اپنے ہاتھ سے اپنی بیٹی کو آگ میں ڈالتی؟ مگر اس طرح ایک تھوڑے سے تعلقات کے لئے اسے دائمی آگ میں ڈال دیا- پس اس سے بچو- مسیح موعود کے آنے پر جو تفرقے اٹھے یہ پہلے ہی تھے نئے نہیں- لیکن اگر تم قربانیاں کرو تو دوسروں کو تحریک ہو کہ اس طرح یہ تفرقے مٹ سکتے ہیں- مثلاً احمدی ہو کر غیروں سے رشتے نہ کرو- اپنا نمونہ اچھا دکھاؤ تو ان کو بھی ترغیب ہو- اور اگر احمدی ہو کر بھی تم ان سے رشتے برابر قائم رکھتی ہو تو وہ کہتے ہیں کہ رشتے تو ہم کو یوں بھی مل جاتے ہیں پھر احمدی ہو کر کیا کرنا- یاد رکھو کہ یہ قومی گناہ ہے اگر تم ان سے بکلی ایسے تعلقات قطع کر لو اور خدا کے لئے اس قربانی کو اختیار کرو تو ادھر تو خدا خود ان رشتہ داروں کی بجائے تم کو بہتر رشتے دے گا اور پھر تمھارے اس استقلال کے صلے میں تمہارے وہ رشتہ دار بھی واپس ملا دے گا مگر شرط یہی ہے کہ