انوارالعلوم (جلد 11) — Page 518
۵۱۸ احمدیوں کا تہترواں (۷۳( فرقہ نکال دیا- چاہئے تو یہ تھا کہ یہ تفرقے کم کئے جاتے الٹا ایک زائد کر دیا- شائد تمہارے خیال میں بھی جو غیر احمدی ہیں ان کا یہی خیال ہو اس لئے پہلے میں اسی مسئلہ کو صاف کرتا ہوں- پہلا سوال خون و فساد کا ہے اس کے متعلق یاد رکھو کہ قرآن کریم نے نبی کی آمد سے پہلے کی حقیقت یوں واضح کی ہے کہ ظھر الفساد فی البرو البحر-۲؎ یعنی اس وقت خشکی وتری میں فساد تھے اور ہمیشہ یہی ہوتا ہے- اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے آنے سے پہلے کیا دنیا ایک ہی فرقہ پر تھی یا یہ فساد موجود پہلے ہی تھے؟ شیعہ حنفی پہلے ہی موجود تھے یا نہیں؟ گیارھویں، آمین، رفع یدین کے قضیے پہلے ہی تھے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ- غور کرو تو معلوم ہو گا کہ اتنا فساد تھا جس کی حد نہیں اور جس کے سننے سے بھی شرم آتی ہے- افغانستان میں سینکڑوں آدمیوں کی انگلیاں مروڑ دی گئیں صرف اس لئے کہ التحیات میں تشہد کے وقت وہ شہادت کی انگلی کو اٹھاتے تھے اور حنفی اپنے عقیدہ کے مطابق ایسی نماز کو ضائع سمجھتے تھے- ایک دوست نے سنایا کہ ایک مرتبہ ایک اہلحدیث حنفیوں کی مسجد میں ان کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ رہا تھا- التحیات میں اس نے انگلی اٹھائی- اس کا انگلی اٹھانا تھا کہ تمام مقتدی نمازیں توڑ کر اس پر ٹوٹ پڑے اور حرامی حرامی کہنا شروع کر دیا- چنانچہ یہ فساد حضرت مسیح موعود کے آنے سے پہلے ہی تھے- مسیح موعود نے تو آ کر اصلاح کی- چوٹ لگانے والا فسادی ہوتا ہے یا ڈاکٹر جو نشتر لے کر علاج پر آمادہ ہوتا ہے؟ ایک شخص کا بخار سے منہ کڑوا ہو ڈاکٹر کونین دے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ظالم نے منہ کڑوا کر دیا- اگر ڈاکٹر بلغم کو نہ نکالتا تو جسم کی خرابی بڑھ جاتی- بلغم نکال دینے پر اعتراض کیسا؟ ہڈی ٹوٹی رہتی اگر زخم کو نشتر سے صاف نہ کیا جاتا اس پر جلن آمیز دوائی نہ چھڑکی جاتی تو مریض کی حالت کس طرح بہتر ہو سکتی- اس کی تو جان خطر میں پڑ جاتی- اس صورت میں کس طرح کوئی ڈاکٹر کو ملزم بنا سکتا ہے- ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور اسی تفرقے کے متعلق سوال کیا- آپ نے فرمایا- اچھا بتاؤ- اپنا اچھا دودھ سنبھالنے کے لئے دہی کے ساتھ ملا کر رکھتے ہیں یا علیحدہ؟ ظاہر ہے کہ دہی کے ساتھ اچھا دودھ ایک منٹ بھی اچھا نہیں رہ سکتا- پس