انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 517

۵۱۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مستورات سے خطاب (فرمودہ ۲۷- دسمبر ۱۹۳۰ء برموقع جلسہ سالانہ) تشہد،تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد آیاتو اذ قال ربک للملئکہ انی جاعل فیالارض خلیفہ- قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا و یسفک الدماء ونحن نسبح بحمدک و نقدس لک- قال انی اعلم مالا تعلمون- ۱؎ تلاوت کر کے فرمایا-: دنیا میں خلیفہ دو قسم کے ہوتے ہیں- ایک وہ جنہیں انسان بناتا ہے دوسرے جنہیں خدا الہام کے ذریعہ بناتا ہے- الہام کی بناء پر ہونے والے خلیفہ کو نبی کہتے ہیں جو ملہم خلیفے ہوتے ہیں ان کے آنے پر دنیا میں فساد برپا ہو جاتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ خود فسادی ہوتے ہیں بلکہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ طبائع ناموافق ہوتی ہیں- اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پیدائش کے واقعہ کے متعلق فرمایا کہ اس وقت فرشتوں نے بھی یہی کہا کہ آپ دنیا میں ایسے شخص کو پیدا کرنا چاہتے ہیں جو زمین میں فساد کرے- یعنی فرشتوں نے سوال کیا کہ آپ کی غرض تو اصلاح معلوم ہوتی ہے مگر درحقیقت یہ فساد کا موجب ہے- اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے- میں خلیفہ اس لئے بناتا ہوں کہ تا اچھے اور خراب علیحدہ کئے جائیں- قرآن میں پہلے اسی سوال کو لیا گیا ہے کیونکہ ہر ایک نبی کی بعثت پر فساد برپا ہوئے اور نبیوں کو ان کا موجب بنایا گیا- دیگر نبیوں کے علاوہ محمد رسول اللہﷺ کے وقت بھی یہی عام مقولہ تھا کہ اس نے بھائی بھائی کو الگ کر دیا- اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ آپ بانی فساد ہیں- بہتر (۷۲( فرقے تو پہلے ہی تھے اب آپ نے