انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 21

انوار العلوم جلد 1 ۲۱ ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہنے حقیقت اسلام پیش کروں۔ چنانچہ آپ ہی کے ذریعہ وہ اعتراض جو مدت سے آنحضرت ملی تایم پر مخالفین اسلام کی طرف سے کیا جاتا تھا کہ اسلام دنیا میں تلوار کے زور سے پھیلا ہے دور ہوا۔ آپ نے ثابت کیا کہ اسلام کی اشاعت کا باعث آنحضرت میں ایم کی قوت قدسیہ تھی جس سے سخت سے سخت دل بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ آنحضرت ملی ہم نے اس طرح لاکھوں کو اپنا گرویدہ بنایا ۔ آج ناگر آج بھی خدا نے مسیح موعود کو بھیجا ہے جو آپ کا غلام ہے تا آپ کا غلام دنیا میں اسلام بغیر تلوار پھیلائے تا دنیا جان لے کہ جو کام شاگرد کر سکتا ہے وہ استاد کیوں نہیں کر سکتا۔ انحضرت میں یہ استاد تھے اور رہم ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ پ کی کی اتباع سے اعلیٰ سے اعلیٰ کمالات حاصل ہو سکتے ہیں۔ دیکھو استاد کا کمال کیا یہ ہوتا ہے کہ اس کی نسبت کہا جائے یہ ایسا کامل ہے کہ اس کا کوئی شاگرد پرائمری سے بڑھ نہیں سکتا۔ یا یہ کہ یہ ایسا کامل ہے کہ اس کے شاگر د بی اے اور ایم اے ہیں۔ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت میں یہ کی پیروی سے نبوت مل سکتی ہے۔ سورۃ فاتحہ میں جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ آیا ہے اس کی دوسرے مقام پر اس طرح توضیح کی گئی ہے کہ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصُّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سلہ اس آیت میں مُنْعَم عَلَيْهِ گروه کے چار درجے بیان فرمائے گئے ہیں۔ نبی ، صدیق ، شہید صالح - یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور آنحضرت ملی تعلیم کی پیروی سے انسان یہ چار درجے حاصل کر سکتا ہے۔ دوسرے انبیاء اور آنحضرت ملی الم میں ایک یہ بھی فرق ہے کہ پہلے انبیاء کی اتباع سے نبی نہیں بن سکتے تھے صدیق اور شہید ہو سکتے تھے مگر آنحضرت میں ہم کو وہ کمال حاصل تھا کہ حضور کی اتباع سے نبی بھی بن سکتے ہیں۔ بعض لوگ ناواقفیت کے باعث یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں مع کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوا کہ نبی نہ ہونگے نبیوں کے ساتھ ہونگے۔ مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے۔ یہ مَعَ صرف النبينَ کے ساتھ ہی نہیں۔ بلکہ الصِّدِّيقِينَ الشُّهَدَاءِ الصَّالِحِينَ سب کے ساتھ بھی ہے اور اگر ان کے معنی درست تسلیم کئے جائیں تو یہ مطلب ہو گا کہ نبی نہ ہونگے ، نبیوں کے ساتھ ہونگے۔ صدیق نہ ہونگے بلکہ صدیقوں کے ساتھ ہونگے۔ شہید نہ ہونگے بلکہ شہداء کے ساتھ ہونگے۔ صالح نہ ہونگے بلکہ صالحین کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن اگر غور کیا