انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 488

۴۸۸ ہندوستان کی ریاستوں کا تفاوت بھی اسی قسم کا ہے- پس اسی اصل پر کہ جو جرمنریاستوں نے قبول کیا تھا ہندوستانی ریاستیں اپنا نظام قائم کر سکتی ہیں- وہ اصل جو جرمن ریاستوں نے اپنی نیابت کے لئے تسلیم کیا تھا یہ تھا کہ کسی ریاست کو حق نیابت نہ اس کے رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے دیا جائے گا اور نہ چھوٹی بڑی ریاستوں کو یکساں حق ملے گا بلکہ دونوں امور کو مدنظر رکھ کر ایک نسبت نکال لی جائے گی جس کے مطابق مختلف ریاستوں کو حق دیا جائے گا- چنانچہ اس اصل کے مطابق انہوں نے پرشیا کو جس کی آبادی باقی سب ریاستوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ تھی اٹھاون میں سے کل سترہ ووٹ دیئے تھے- یہاں بھی اسی اصول پر ریاستوں کی نمائندگی رکھی جائے - یعنی چھوٹی ریاستوں کو اس لحاظ سے کہ وہ اپنے گھر میں ویسی ہی آزاد ہیں جیسے کہ بڑی ریاستیں کچھ زائد حق دیا جائے اور بڑی ریاستوں کو بوجہ اس کے کہ ان کی نمائندگی اگر ان کے رقبے اور آبادی کے مطابق ہو تو وہ چھوٹی ریاستوں کی آواز کو بالکل دبا دیں گی ان کے حق سے کم ملے- اسی طرح ریاستوں کی مجلس کی ساخت بھی اس امپیریل بنڈسٹریٹ کے اصول پر ہو کیونکہ دوسری تمام دنیا کی مجالس سے اس میں یہ فرق ہو گا کہ اس میں یا والی ریاست ممبر ہو گا یا اس کا مقرر کردہ شخص اور جس ریاست کے زیادہ ممبر ہوں گے وہ سب کے سب ایک رائے دینے پر مجبور ہوں گے- کیونکہ وہ والی ریاست یا ریاست کے نمائندے ہوں گے نہ کہ افراد کے- اور یہی حال جرمن بنڈیسریٹ (BUNDESRAT) کا ۱۹۱۰ء سے پہلے تھا- پروفیسر ڈبلیو- بی مانرو MANROE(۔B۔(W اس کے متعلق لکھتے ہیں- ‘’جرمن کی فیڈرل مجلس بنڈیسریٹ (BUNDESRAT)کے ممبر معین میعاد کے لئے مقرر نہیں ہوتے تھے بلکہ ان ریاستوں کو جن کے وہ نمائندے تھے اختیار ہوتا تھا کہ جب چاہیں انہیں واپس بلا لیں- یہ ممبر ان ہدایات کے ماتحت رائے دیتے تھے جو ان کو ان کی ریاستوں کی طرف سے ملتی تھیں اور اسی لئے ہر ایک ریاست کے جملہ ممبر متحدہ صورت میں ووٹ دیتے تھے- بلکہ ہر ریاست کا ہر ممبر اپنی ریاست کی طرف سے ووٹ دے سکتا تھا اور اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کہ کسی ریاست کے دوسرے ممبر بھی حاضر ہوں- اس جہت سے بنڈیسرہٹ گویا ایک سفراء کا مجمع تھی نہ کہ نمائندوں کی مجلس۔۔۔۔۔۔۔یہ محض ایک بین الاقوام مجلس شوریٰ نہیں