انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 469

۴۶۹ قانون ساز مجالس کے اختیارات میں یہ پہلے بتا چکا ہوں کہ قانون اساسی کے طے ہونے کے فوراً بعد مرکز میں اس پر عمل شروع نہ ہو بلکہ ایک وقتی انتظام پہلے قائم کیا جائے جو حسب قوانین تبدیل ہوتا ہوا قانون اساسی کے مطابق ہو جائے اس لئے جو کچھ میں اب لکھوں گا وہ اس امر کو مدنظر رکھ کر ہو گا کہ پہلی اسمبلی جو نئے نظام کے ماتحت منتخب ہو اس کے کیا اختیارات ہوں- میرے نزدیک یہ مناسب نہیں کہ فوراً ہی ایگزیکٹو کو اسمبلی کے تابع کر دیا جائے- اس لئے میرے نزدیک مناسب یہ ہو گا کہ چند سال تک موجودہ تعلق اسمبلی اور ایگزیکٹو کا بہت حد تک قائم رکھا جائے- لیکن اس امر کا خیال رکھتے ہوئے کہ آئندہ حکومت خود اختیاری اصول پر چلائی جائے گی مندرجہ ذیل تغیر کر دیئے جائیں- (۱) اسمبلی کو آئندہ مالی معاملات میں پوری آزادی ہو اور اس کا فیصلہ اس امر میں ناطق ہو سوائے اس کے کہ گورنر جنرل کسی امر کو ملک کے مفاد کے خلاف دیکھ کر رد کر دیں- مالیبل جس قدر پیش ہوں ان کی اصلاح کا بھی اسمبلی کو اختیار ہو اور بغیر اس کی اجازت کے بل کو واپس لینے کا حکومت کو اختیار نہ ہو- (۲) اس وقتی نظام کے دوران میں اگر دونوں مرکزی مجالس تین چوتھائی کی کثرت سے کوئی فیصلہ کر دیں تو گورنمنٹ اس پر عمل کرنے کی پابند ہو- بشرطیکہ وہ امر کانسٹی چیوشن (CONSTITUTION( یا ایگزیکٹو (EXECUTIVE) کے اختیارات یا نان ووٹیبل (NONVOTABLE)امور سے تعلق نہ رکھتا ہو- گورنر جنرل کو بھی اس فیصلہ کو رد کرنے کا اختیار نہ ہو- صرف یہ اختیار ہو کہ وہ پہلے دونوں مجالس کے پاس اس فیصلہ کو واپس کریں اور دوبارہ غور کرنے کی ہدایت کریں اور اس کی وجوہ بیان کر دیں- اگر دونوں مجالس ان کی مرضی کے مطابق اصلاح کر دیں تو فبہا، ورنہ اگر اصلاح نہ ہو یا مرضی کے مطابق نہ ہو اور گورنر جنرل یہ سمجھیں کہ اس فیصلہ کا اجراء خطرناک ہے تو وہ دونوں مجالس کو برخاست کر کے نئی مجالس کا انتخاب کرائیں اور اس وقت تک اس فیصلہ کو ملتوی رکھیں- اگر دوسری منتخب شدہ مجالس بھی تین چوتھائی کی اکثریت سے اس