انوارالعلوم (جلد 11) — Page 449
انوار العلوم جلد !! لد لده ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل کے کام سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی ہو ۔ (۸) کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے گا جس کی غرض بعض افراد یا جماعتوں کو امتیازی طور پر فائدہ پہنچانا یا بعض افراد یا جماعتوں کو خاص طور پر نقصان پہنچانا ہو ۔ (۹) جداگانہ انتخاب کو پچیس سال تک منسوخ نہ کیا جائے گا سوائے اس صورت کے کہ جو قوم اس سے فائدہ اٹھا رہی ہو اس کے ۸۰ فیصدی منتخب ممبر اسے ترک کرنے کی درخواست کریں لیکن یہ ضروری ہوگا کہ جس مجلس کے ام انتخاب میں جداگانہ انتخاب اُڑانے کی درخواست ہو اس مجلس کے اسی فیصدی ممبروں کی درخواست ہو ۔ (۱۰) اتحادی حکومت کے جو حصص پہلی دفعہ مقرر ہو جائیں ان کے توڑنے یا ایک کو دوسرے سے ملانے کا اس حصہ کی مرضی کے سوا جس کا توڑا جانا یا ان حصوں کی مرضی کے سوا جن کو ملانا مقصود ہو کسی کو حق نہ ہو گا۔ (11) اگر سندھ (SIND) نارتھ ویسٹرن (NORTH WESTERN) فرنٹیئر پراونس اور بلوچستان کو نیا نظام جاری ہونے سے پہلے )FRONTIER PROVINCE( صوبہ جاتی آزادی نہ ملے تو یہ بھی قانون اساسی میں درج ہونا چاہئے کہ پہلے پانچ سال کے اندر اندر ان صوبوں کو دوسرے صوبوں کی طرح خود اختیاری حکومت مل جائے گی اور یہ کہ اگر پانچ سال کے اندر مرکزی حکومت اس کا انتظام نہ کرے تو اس کا کوئی قانون اس وقت تک کہ وہ اس غرض کو پورا کو پورا کرے جائز قانون نہ کہلا۔ نہ کہلا سکے گا کیونکہ اس کے وہ حصص جنہوں نے اسے اختیار دیتے ہیں رائے دینے میں آزاد نہ ہونگے۔ (۱۳) افراد کے حقوق کی فہرست دے دی جائے کہ ان میں حکومت کو دخل دینے کا حق نہ ہو گا۔ مثلاً جائیداد کا چھیننا ووٹ کا حق چھینا بغیر مقدمہ کے گرفتار کرنا، قانون کے پاس ہونے سے پہلے جرائم پر گرفتار کرنا یا سزا دینا وغیرہ وغیرہ۔ (۱۳) کسی صوبہ کی اندرونی آزادی کو مرکز کسی وقت اور کسی صورت میں نہیں چھین سکتا اور نہ کم کر سکتا ہے۔ (۱۴) جو اختیارات مرکز کو نہیں دیئے گئے ان کے متعلق کوئی قانون اس کا جائز نہ ہو گا بلکہ اس کے متعلق صوبہ جات کے قانون ہی تنفیذ کے قابل ہونگے۔ (۱۵) سپریم کورٹ کا فیصلہ مرکزی قانون اساسی کے متعلق اور صوبہ کے ہائیکورٹ کا فیصلہ