انوارالعلوم (جلد 11) — Page 434
۴۳۴ سے ملا دیا جائے- مگر میرا یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ آف انڈیا آج ہی سے اپنے ملازم الگ بھرتی کرنے شروع کر دے- میرے نزدیک دونوں باتیں ممکن ہیں- یہ بھی کہ گورنمنٹ آف انڈیا اپنی ضرورتوں کے مطابق الگ بھرتی کرے اور یہ بھی کہ وہ صوبہ جات کی حکومتوں سے بطور قرض بعض افسران کی خدمات لے لیا کرے- دونوں صورتوں میں آل انڈیا اصول پر بھرتی کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے صوبہ جات کے ساتھ ان کا کوئی ایسا سمجھوتہ ہو جائے جس سے وہ چند افسر اپنے کارکنوں کی تعداد میں زیادہ کر لیں- صوبہ جات پر اس سے کوئی بار نہیں پڑے گا کیونکہ اس قدر افسر گورنمنٹ آف انڈیا ان سے لے لیا کرے گی- لیکن بہر حال یہ عارضی انتظام ہو گا- صوبہ جات کی آزادی کی صورت میں ایک نہ ایک دن گورنمنٹ آف انڈیا کو اپنے عہدوں کے لئے الگ بھرتی کرنی پڑے گی اور اس کو ابھی سے مدنظر رکھ لینا چاہئے- ہندوستان ایک وسیع ملک ہے اور اس کے سب انتظام کو ایک دن میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا- منہ سے کامل آزادی کہہ دینا اور بات ہے اور عملاً اس قدر وسیع انتظام کو بغیر خرابی پیدا کرنے کے بدل دینا بالکل اور بات ہے- پس یہ تو لازمی بات ہے کہ ان سب تغیرات کا فیصلہ ابھی تو بطور پالیسی کے ہی ہو گا- عمل ان امور پر آہستگی اور تدریجی طور پر ہی کیا جا سکتا ہے- مثلاً جو افسر اس وقت ملازمت میں ہیں، ان کی ترقی کے راستوں کو بند نہیں کیا جا سکتا- پس ان کے لئے یہ حق تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ترقی کرتے کرتے گورنمنٹ آف انڈیا کے زیادہ تنخواہ والے عہدوں کو حاصل کریں- اسی طرح گورنمنٹ آف انڈیا بھی ایک دن میں اپنی ملازمتوں کا سلسلہ الگ نہیں کر سکتی- پس ایسے قواعد تجویز کرنے چاہئیں کہ موجودہ ملازمین کے حقوق بھی محفوظ رہیں اور آئندہ بھرتی دو طریق پر ہو- کچھ حصہ آل انڈیا اصول پر اور کچھ حصہ پراونشل اصول پر اور آہستہ آہستہ مثلاً دس سال میں صرف پراونشل اصول پر بھرتی رہ جائے- اسی طرح گورنمنٹ آف انڈیا بھی کچھ ملازم براہ راست بھرتی کرے کچھ صوبہ جات سے مستعار لیا کرے اور وہ بھی پندرہ بیس سال تک اپنے محکموں کو صوبہ جات سے بالکل آزاد کر لے- میں اس امر کی تفصیلات میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ تبدیلی کن مدارج کو طے کر کے ہو