انوارالعلوم (جلد 11) — Page 421
انوار العلوم جلد 11 ۴۲۱ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل ہوتی ہے۔ پس دوسری چیمبر کا ہونا ضروری ہے۔ (۲) چونکہ مجلس عام کے ممبر زیادہ ہوتے ہیں وہ اس قدر وقت بحث پر خرچ نہیں کر سکتے جس قدر کہ تھوڑی جماعت آزادی سے وقت خرچ کر سکتی ہے۔ پس پالیسی اور اصول کی بخشیں زیادہ تر دو سری مجلس میں ہی کی جاسکتی ہیں۔ (۳) بعض تجربہ کار اور بوڑھے آدمی بوجہ اپنی خاص حیثیت یا اپنے مزاج یا اپنی صحت کے اس فضاء یا اس طریق کار کی برداشت نہیں کر سکتے جو مجلس عام میں اس کی ساخت کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے اس لئے دوسری مجلس میں ان لوگوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ (۴) بوجہ قانون کی ابتدائی تشکیل کے مجلس عام میں جنبہ داری کے جذبات میں تیزی پیدا ہو وجہ سے قانون بناتے وقت ہر قسم اور ہر طبقہ کے فوائد کو مد نظر جاتی ہے اور اس وجہ نظر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس فضاء سے محفوظ رہنے والی دوسری چیمبر میں اس نقص کا ازالہ ہو جاتا ہے اور ٹھنڈے دل سے ہر قسم کے فوائد پر نگاہ ڈالی جا سکتی ہے۔ (۵) ماہرین فنون اگر عام مجلس میں شامل ہوں تو ان کے مشورہ کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ سینکڑوں میں سے ایک ہوتے ہیں لیکن دوسری چیمبر چونکہ تھوڑے آدمیوں پر مشتمل ہوتی ہے اس میں ان کا ووٹ زیادہ وزن رکھتا ہے اور اس طرح ملک ان کے تجربہ سے زائد فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ چار سو ممبر والی مجلس میں ایک شخص کے ووٹ کی قیمت ۱/۴۰۰ ہوگی۔ لیکن وہی شخص اگر اس پہلی مجلس کی نظر ثانی کرنے والی کمیٹی میں جس کے پچاس ممبر ہوں شامل ہو جائے گا تو اس کے ووٹ کی قیمت ۸/۴۰۰ ہو جائے گی۔ پس ایسی مجلس میں ماہرین فن کا شامل ہونا ملک کے لئے زیادہ مفید ہوتا ہے جہاں وہ مجلس واضع قوانین کے ممبر بھی سمجھتے جاتے ہیں اور ان کی رائے کا وزن بھی زیادہ ہو جاتا ہے ۔ (۶) اگر ایک مجلس ہو تو الیکشن کے وقت حکومت ملک کے نمائندوں سے بالکل خالی ہو جاتی ہے لیکن دو مجالس ہوں تو ہر وقت ایک نہ ایک مجلس ملک کی نمائندہ موجود رہتی ہے کیونکہ دونوں کا الیکشن الگ الگ وقتوں پر رکھا جا سکتا ہے اور عملاً بھی مختلف ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔