انوارالعلوم (جلد 11) — Page 416
۴۱۶ اب میں سائمن کمیشن کی جو رائے عورتوں کے پردہ کے بارہ میں ہے اس کی تغلیط کرتا ہوں- اول تو سائمن کمیشن نے یہ عجیب استدلال کیا ہے کہ عورتوں کی تعداد جو مردوں سے کم ہے اس کا ایک سبب پردہ ہے اس کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے اور وہ مر جاتی ہیں- لیکن وہ اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں کہ انگلستان میں مردوں اور عورتوں کی نسبت میں فرق ہندوستان سے زیادہ ہے صرف اختلاف یہ ہے کہ وہاں مرد کم اور عورتیں زیادہ ہیں- اور ہندوستان میں عورتیں کم اور مرد زیادہ ہیں- کیا انگلستان کی نسبت بھی کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ وہاں مردوں پر کوئی خاص ظلم ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مر جاتے ہیں اور عورتیں زندہ رہتی ہیں؟ اگر سائمن کمیشن مختلف ممالک کی آبادیوں کا مقابلہ کرتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ عورت و مرد کی آبادی کے فرق کے اصول بالکل اور ہیں اور اکثر وجوہ نہایت باریک طبعی مسائل پر مبنی ہیں جن کی سائمن کمیشن کو کوئی واقفیت نہیں تھی- سائمن کمیشن کے ممبروں کے دلچسپ معائنے کے لئے میں انہیں بتاتا ہوں کہ آئرلینڈ کے شمالی حصہ میں یعنی السٹر کی حکومت میں چار فیصدی عورتیں مردوں سے زیادہ ہیں- لیکن جنوبی حصہ یعنی آئرش فری سٹیٹ (IRISH FREE STATE) میں قریباً دو فیصدی مرد زیادہ ہیں- کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ شمالی حصہ میں تو مردوں پر ظلم ہوتا ہے اور جنوبی حصہ میں عورتوں پر؟ لیکن اس فرق کا حل یہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ بعض باریک طبعی اسباب کی وجہ سے انگریزی قوم میں عورتوں کی زیادتی ہوتی ہے اس وجہ سے شمالی آئرلینڈ میں جس میں انگریزی نسل کے لوگ زیادہ بستے ہیں عورتیں زیادہ ہیں اور جنوبی آئرلینڈ میں جس میں آئرش نسل کی زیادتی ہے اس میں مرد زیادہ ہیں- سائمن کمیشن نے اپنے اندازہ میں ایک اور بھی غلطی کی ہے اور وہ یہ کہ اس نے غور نہیں کیا کہ عورتوں کی کمی سب سے زیادہ سکھوں اور پہاڑی نسلوں میں ہے اور یہ دونوں قومیں پردہ کی سخت مخالف ہیں اور سکھوں میں بچپن کی شادی کا رواج بھی دوسری قوموں سے کم ہے- سکھ عورت نہایت مضبوط ہوتی ہے- باوجود اس کے سکھوں میں عورتیں کم ہیں اور مرد زیادہ ہیں- پہاڑی قوموں میں عورتوں کی کمی اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ اب تک ایک عورت کے تین تین چار چار خاوند ہوتے ہیں اور سکھ قوم میں بوجہ رشتہ نہ ملنے کے دوسری قوموں کی عورتوں کو سکھ بنا کر ان سے شادیاں کرتے ہیں-