انوارالعلوم (جلد 11) — Page 417
۴۱۷ پھر اگر سائمن کمیشن واقعات پر نگاہ ڈالتا تو اسے یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ پردہ کا رواج دس فیصدی سے زیادہ لوگوں میں نہیں ہے- دیہات کی عورتوں میں سے ننانوے فیصدی پردہ کے عام مفہوم کے مطابق پردہ نہیں کرتیں- پس اگر عورتوں کی کمی کا فرق پردہ کی وجہ سے ہے تو اس فرق کو دیکھ کر جو مردوں اور عورتوں کی نسبت میں ہے فرض کر لینا چاہئے کہ پردہ دار حصہ جو صرف دس فیصدی ہے اس میں دو مردوں کے مقابلہ میں ایک عورت ہے جو بالبداہت غلط ہے- بچپن کی شادی جس سے میری مراد کسی خاص عمر سے نہیں ہے بلکہ قویٰ کے نشوونما پانے سے پہلے کی عمر کی شادی ہے بے شک نقصان دہ ہے لیکن مسلمانوں میں اس کا بہت کم رواج ہے اور سائمن کمیشن کا یہ کہنا کہ مسلمانوں میں اس کے متعلق ایک روایت ہے بالکل خلاف واقعہ ہے- مسلمانوں میں بچپن میں شادی کر دینے کے متعلق کوئی روایت نہیں ہے- اور اگر شارداایکٹ کے خلاف مسلمانوں نے کوئی شور مچایا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ بچپن کی شادی کو ضروری سمجھتے ہیں بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اس امر کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی غیر مذہب کی اکثریت ان کے پرسنل لاء میں دخل اندازی کرے اور اس طرح آئندہ کے لئے راستہ کھل جائے- یہ عیب ہندوؤں میں ہی ہے اور انہی کو اس کا نقصان بھی پہنچتا ہے کیونکہ ان کے ہاں بیوہ کی شادی کا رواج نہیں- اور اس وجہ سے جو عورت بیوہ ہو جاتی ہے اس کی عمر برباد ہو جاتی ہے- مسلمانوں میں جس قدر یہ رواج ہے بوجہ ہندوؤں کے اثر کے ہے اور ہم لوگ اسے آہستگی سے دور کر رہے ہیں- اب میں پردہ کے صحت اور تعلیم پر اثر کو لیتا ہوں- اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ پردہ مسلمانوں میں ابتداء سے ہے- لیکن باوجود اس کے مسلمان عورتیں حکومتوں کے ہر قسم کے کاموں میں حصہ لیتی رہی ہیں- عورتیں مسلمانوں میں بادشاہ بھی ہوئیں ہیں، فوجوں میں بھی انہوں نے کام کیا ہے، قضاء وغیرہ کے عہدہ پر بھی انہیں مقرر کیا گیا ہے، پروفیسر بھی وہ رہی ہیں اور ان پردہ دار عورتوں کو اس زمانہ میں یہ طاقت اور علم کے کام کرنے پڑے ہیں جس وقت باقی اقوام کی بے پردہ عورتیں صحت اور علم دونوں میں ان کے مقابلہ سے عاجز تھیں- پس معلوم ہوا کہ پردہ نہیں بلکہ مسلمان عورتوں کی کمزوری اور جہالت کے اس وقت اور اسباب ہیں- میں حیران ہوں کہ کس طرح پردہ کو تعلیم کے لئے روک کہا جاتا ہے- ہماری جماعت